صحیح بخاری حدیث ۶۴۱۸ - امید سے پہلے موت آ سکتی ہے

امید اور موت کی حدیث: انسان سوچتا رہتا ہے، موت قریب آ جاتی ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۱۸

حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : خَطَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطُوطًا ، فَقَالَ : " هَذَا الْأَمَلُ وَهَذَا أَجَلُهُ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَهُ الْخَطُّ الْأَقْرَبُ " .

انس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند خطوط کھینچے اور فرمایا کہ یہ امید ہے اور یہ موت ہے، انسان اسی حالت (امیدوں تک پہنچنے کی) میں رہتا ہے کہ قریب والا خط (موت) اس تک پہنچ جاتا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۴۱۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لکیریں کھینچ کر امید اور موت کی مثال دی۔ فرمایا کہ یہ امید ہے اور یہ موت ہے۔ انسان اسی حالت میں رہتا ہے کہ امیدوں تک پہنچنے کی سوچ میں لگا ہوتا ہے، پھر قریب والا خط، یعنی موت، اس تک آ پہنچتا ہے۔ یہ حدیث بہت مختصر ہے مگر اس کا پیغام صاف ہے۔ انسان مستقبل کے منصوبے بناتا ہے، بہت سی امیدیں رکھتا ہے، مگر موت کا وقت اس کے اختیار میں نہیں۔ اس لیے امید رکھنا برا نہیں، مگر امیدوں میں ایسا گم ہونا کہ آخرت اور عمل بھول جائے، خطرناک ہے۔ یہ حدیث موت کی یاد، لمبی امید، اور آج کے وقت کو نیکی میں لگانے کی نصیحت دیتی ہے۔ بندہ جو اچھا کام کر سکتا ہے، اسے ٹالتا نہ رہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • انسان کی امیدیں لمبی ہو سکتی ہیں، مگر موت قریب آ سکتی ہے۔
  • نیکی کے کام کو بلا وجہ ٹالتے رہنا مناسب نہیں۔
  • مستقبل کی امید کے ساتھ موت کی یاد بھی ضروری ہے۔
  • زندگی کے موجودہ موقع کو بہتر عمل میں استعمال کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں