صحیح بخاری حدیث ۶۴۱۹ - ساٹھ سال عمر اور جواب دہی

ساٹھ سال کی عمر کی حدیث: زندگی ملے تو عذر باقی نہیں رہتا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۱۹

حَدَّثَنِي عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ مَعْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَى امْرِئٍ أَخَّرَ أَجَلَهُ حَتَّى بَلَّغَهُ سِتِّينَ سَنَةً " ، تَابَعَهُ أَبُو حَازِمٍ ، وَابْنُ عَجْلَانَ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کے عذر کے سلسلے میں حجت تمام کر دی جس کی موت کو مؤخر کیا یہاں تک کہ وہ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ گیا۔“ اس روایت کی متابعت ابوحازم اور ابن عجلان نے مقبری سے کی۔

صحیح بخاری حدیث ۶۴۱۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کے عذر کے سلسلے میں حجت تمام کر دی جس کی موت کو مؤخر کیا، یہاں تک کہ وہ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان کو لمبی عمر مل جائے، خاص طور پر ساٹھ سال تک پہنچ جائے، تو اسے سوچنا چاہیے کہ اسے عمل، توبہ، اصلاح اور آخرت کی تیاری کا کافی موقع ملا ہے۔ یہ حدیث کسی ایک عمر کے بعد ناامیدی نہیں سکھاتی، بلکہ ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے۔ عمر جتنی بڑھتی ہے، بندے کو اتنا ہی سنجیدہ ہونا چاہیے۔ ساٹھ سال کی عمر، موت کی تیاری، اور زندگی کے موقع کی قدر اس حدیث کے مرکزی موضوعات ہیں۔ اس میں انسان کو غفلت چھوڑ کر اپنے اعمال پر نظر ڈالنے کی یاد دہانی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • لمبی عمر ملنا انسان کے لیے سوچنے اور سنبھلنے کا موقع ہے۔
  • ساٹھ سال تک پہنچنے والے کو اپنی آخرت کی فکر زیادہ کرنی چاہیے۔
  • عمر بڑھنے کے ساتھ عمل اور توبہ میں سنجیدگی آنی چاہیے۔
  • زندگی کا وقت ملنا اللہ کی طرف سے حجت قائم ہونے کا سبب ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں