صحیح بخاری حدیث ۶۴۲۳ - لا الہ الا اللہ اور اخلاص

لا الہ الا اللہ کی حدیث: اللہ کی رضا کے لیے کلمہ کہنا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۲۳

قَالَ : سَمِعْتُ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ الْأَنْصارِيَّ ، ثُمَّ أَحَدَ بَنِي سَالِمٍ ، قَالَ : غَدَا عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَنْ يُوَافِيَ عَبْدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَقُولُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، يَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ ، إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ " .

عتبان بن مالک انصاری روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے اور فرمایا ”کوئی بندہ جب قیامت کے دن اس حالت میں پیش ہو گا کہ اس نے کلمہ «لا إله إلا الله» کا اقرار کیا ہو گا اور اس سے اس کا مقصود اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا ہو گی تو اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ کو اس پر حرام کر دے گا۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۴۲۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کلمہ «لا إله إلا الله» کی فضیلت بیان فرمائی۔ فرمایا کہ جو بندہ قیامت کے دن اس حال میں آئے کہ اس نے لا الہ الا اللہ کہا ہو اور اس سے اس کا مقصد اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا ہو، تو اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ کو اس پر حرام کر دے گا۔ اس حدیث میں صرف کلمہ پڑھنے کا ذکر نہیں، بلکہ نیت بھی واضح کی گئی ہے: اللہ کی رضا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید، اخلاص اور اللہ کی خوشنودی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ بندہ زبان سے کلمہ کہتا ہے، مگر اس کا رخ اللہ کی طرف ہونا چاہیے۔ یہ حدیث لا الہ الا اللہ، اخلاص نیت، اور اللہ کی رضا کے موضوع پر نہایت اہم پیغام دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • «لا إله إلا الله» توحید کا بنیادی کلمہ ہے۔
  • اس کلمے میں اللہ کی رضا مقصود ہونا ضروری ہے۔
  • حدیث میں اخلاص کے ساتھ کلمہ کہنے کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
  • زبان کے ساتھ دل کا رخ بھی اللہ کی طرف ہونا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں