صحیح بخاری حدیث ۶۴۰۶ - سبحان اللہ وبحمدہ کی فضیلت

سبحان اللہ وبحمدہ کی حدیث: زبان پر آسان، میزان میں بھاری ذکر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۰۶

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ : سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ ، سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دو کلمے جو زبان پر ہلکے ہیں ترازو میں بہت بھاری اور رحمان کو عزیز ہیں «سبحان الله العظيم، سبحان الله وبحمده»۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۴۰۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ایسے کلموں کی فضیلت بیان فرمائی جو پڑھنے میں بہت آسان ہیں: «سبحان الله العظيم، سبحان الله وبحمده»۔ یہ ذکر زبان پر ہلکا ہے، یعنی اسے پڑھنے میں مشقت نہیں، مگر قیامت کے دن میزان میں بہت بھاری ہوگا۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ یہ کلمے رحمان کو عزیز ہیں۔ اس سے صاف سمجھ آتا ہے کہ اللہ کا ذکر صرف لمبی عبادتوں تک محدود نہیں، بلکہ چھوٹے مگر بامعنی الفاظ بھی بندے کے لیے بہت فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔ جو شخص روزمرہ زندگی میں تسبیح، حمد اور اللہ کی پاکی بیان کرنے کو عادت بناتا ہے، وہ اپنی زبان کو اچھے کام میں لگاتا ہے۔ یہ حدیث ذکر اللہ، سبحان اللہ وبحمدہ، اور میزان میں بھاری عمل کی اہمیت کو بہت سادہ انداز میں سمجھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • «سبحان الله العظيم، سبحان الله وبحمده» زبان پر آسان ذکر ہے۔
  • یہ دو کلمے قیامت کے دن میزان میں بھاری ہوں گے۔
  • اللہ تعالیٰ کو یہ ذکر محبوب ہے، اس لیے اسے معمول بنانا اچھی بات ہے۔
  • چھوٹے الفاظ بھی اخلاص کے ساتھ بڑے اجر کا سبب بن سکتے ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں