صحیح بخاری حدیث ۶۴۰۵ - سبحان اللہ وبحمدہ سو بار
سبحان اللہ وبحمدہ سو بار: گناہوں کی معافی کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۴۰۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۰۵
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ ، حُطَّتْ خَطَايَاهُ ، وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے «سبحان الله وبحمده.» دن میں سو مرتبہ کہا، اس کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۴۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبحان الله وبحمده کی بڑی فضیلت بیان فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص دن میں سو مرتبہ سبحان الله وبحمده کہے، اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔ حدیث کے الفاظ بہت واضح ہیں، اس لیے اس میں اصل توجہ تسبیح، حمد اور روزانہ ذکر پر ہے۔ سبحان اللہ کہنے میں اللہ کی پاکی بیان ہوتی ہے، اور وبحمدہ میں اس کی تعریف شامل ہے۔ یہ مختصر ذکر زبان پر آسان ہے مگر حدیث میں اس کا اجر بہت بڑا بیان ہوا ہے۔ مسلمان اسے روزانہ کے اذکار میں شامل کر سکتا ہے اور اللہ سے معافی کی امید رکھ سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سبحان الله وبحمده کو دن میں سو مرتبہ کہنا فضیلت والا عمل ہے۔
- حدیث میں اس ذکر پر گناہوں کی معافی کا ذکر ہے۔
- مختصر ذکر بھی اللہ کے نزدیک بڑا اجر رکھ سکتا ہے۔
- روزانہ تسبیح اور حمد کو معمول بنانا چاہیے۔
