صحیح بخاری حدیث ۶۴۰۴ - دس بار ذکر اور غلام آزاد کرنے کا ثواب
دس بار ذکر کی فضیلت: غلام آزاد کرنے جیسا اجر
صحیح بخاری : ۶۴۰۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۰۴
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ : " مَنْ قَالَ : عَشْرًا كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ " ، قَالَ عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ ، مِثْلَهُ ، فَقُلْتُ لِلرَّبِيعِ : مِمَّنْ سَمِعْتَهُ ؟ فَقَالَ : مِنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، فَأَتَيْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ ، فَقُلْتُ : مِمَّنْ سَمِعْتَهُ ؟ فَقَالَ : مِن ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، فَأَتَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، فَقُلْتُ : مِمَّنْ سَمِعْتَهُ ؟ فَقَالَ مِن أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ يُحَدِّثَهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، . وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَوْلَهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، . وَقَالَ مُوسَى ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، . وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الرَّبِيعِ قَوْلَهُ . وَقَالَ آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ يَسَافٍ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ ، وَعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَوْلَهُ . وَقَالَ الْأَعْمَشُ ، وَحُصَيْنٌ ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَوْلَهُ . وَرَوَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَضْرَمِيُّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلِ " ، قَالَ : أَبُو عَبْد اللَّهِ : الصَّحِيحُ قَوْلُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَمْرٍو .
عمرو بن میمون روایت:
جس نے یہ کلمہ دس مرتبہ پڑھ لیا وہ ایسا ہو گا جیسے اس نے ایک عربی غلام آزاد کیا۔ اسی سند سے عمر بن ابی زائدہ نے بیان کیا کہ ہم سے عبداللہ بن ابی السفر نے بیان کیا، ان سے شعبی نے، ان سے ربیع بن خثیم نے یہی مضمون تو میں نے ربیع بن خثیم سے پوچھا کہ تم نے کس سے یہ حدیث سنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ عمرو بن میمون اودی سے۔ پھر میں عمرو بن میمون کے پاس آیا اور ان سے دریافت کیا کہ تم نے یہ حدیث کس سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ابن ابی لیلیٰ سے۔ (پھر میں) ابن ابی لیلیٰ کے پاس آیا اور پوچھا کہ تم نے یہ حدیث کس سے سنی ہے؟انہوں نے کہا کہ ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے، وہ یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے اور ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا، ان سے ان کے والد یوسف بن اسحاق نے، ان سے ابواسحاق سبیعی نے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمرو بن میمون اودی نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث نقل کی۔اور موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے داؤد بن ابی ہند نے،، ان سے عامر شعبی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے ابوایوب رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اور اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، ان سے شعبی نے، ان سے ربیع نے موقوفاً ان کا قول نقل کیا۔اور آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن میسرہ نے بیان کیا، کہا میں نے ہلال بن یساف سے سنا، ان سے ربیع بن خثیم اور عمرو بن میمون دونوں نے اور ان سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے۔ اور اعمش اور حصین دونوں نے ہلال سے بیان کیا، ان سے ربیع بن خثیم نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے، یہی حدیث روایت کی۔اور ابو محمد حضرمی نے ابوایوب رضی اللہ عنہ سے، انہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً اسی حدیث کو روایت کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۴۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک ذکر کے دس مرتبہ پڑھنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ متن میں آیا ہے کہ جس نے یہ کلمہ دس مرتبہ پڑھ لیا، وہ ایسا ہو گا جیسے اس نے اولاد اسماعیل میں سے ایک غلام آزاد کیا۔ روایت میں اس حدیث کی سند کے کئی طریقے بھی ذکر ہوئے ہیں، جن میں ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت کا ذکر آتا ہے، اور بعض موقوف اقوال بھی بیان ہوئے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے آخر میں صحیح قول کی طرف اشارہ کیا۔ اس حدیث کا اصل موضوع ذکر اللہ کی فضیلت ہے، خاص طور پر توحید کے کلمے کو گن کر پڑھنے کا اجر۔ توضیح میں اتنا ہی کہنا مناسب ہے جتنا متن میں آیا ہے، یعنی دس مرتبہ پڑھنے پر غلام آزاد کرنے جیسا ثواب بیان ہوا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- توحید کا ذکر گن کر پڑھنے کی فضیلت حدیث میں آئی ہے۔
- دس مرتبہ پڑھنے پر غلام آزاد کرنے جیسا اجر بیان ہوا ہے۔
- حدیث میں سند کے مختلف طرق کا ذکر بھی موجود ہے۔
- ذکر کے الفاظ کو معمول بنانا مفید عمل ہے۔
