صحیح بخاری حدیث ۶۴۲۲ - بچپن کی یاد اور حدیث کا حفظ

حدیث یاد رکھنے کی مثال: بچپن کا واقعہ بھی محفوظ رہا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۲۲

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَزَعَمَ مَحْمُودٌ ، أَنَّهُ عَقَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : وَعَقَلَ مَجَّةً مَجَّهَا مِنْ دَلْوٍ كَانَتْ فِي دَارِهِمْ .

محمود بن ربیع انصاری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات خوب میرے ذہن میں محفوظ ہے۔ انہیں یاد ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ایک ڈول میں سے پانی لے کر مجھ پر کلی کر دی تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۶۴۲۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں محمود بن ربیع انصاری کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بات ان کے ذہن میں محفوظ ہے۔ انہیں یاد تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر کے ایک ڈول سے پانی لے کر ان پر کلی کی تھی۔ اس روایت کا مرکزی پہلو یادداشت اور حدیث کے حفظ سے متعلق ہے۔ ایک صحابی نے بچپن میں پیش آنے والا واقعہ یاد رکھا اور اسے آگے بیان کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق چھوٹا واقعہ بھی صحابہ کے نزدیک اہم تھا۔ حدیث سننے، یاد رکھنے اور امانت کے ساتھ نقل کرنے کی قدر یہاں صاف نظر آتی ہے۔ اس متن سے زیادہ کوئی حکم نکالنے کے بجائے اتنا سمجھنا کافی ہے کہ صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات کو بڑی توجہ سے محفوظ رکھتے تھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق واقعات یاد رکھتے تھے۔
  • بچپن کا واقعہ بھی اگر محفوظ ہو تو روایت کیا جا سکتا ہے۔
  • حدیث بیان کرنے میں یادداشت اور امانت اہم ہیں۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت رکھنے والی باتیں صحابہ کے لیے قیمتی تھیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں