صحیح بخاری حدیث ۶۹ - آسانی کرو سختی نہ کرو
آسانی کرو اور نفرت نہ دلاؤ: دین کا نرم انداز
صحیح بخاری : ۶۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا ، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا " .
انس بن مالک روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، آسانی کرو اور سختی نہ کرو اور خوش کرو اور نفرت نہ دلاؤ۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹ کا خلاصہ
اس مختصر مگر بہت جامع حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آسانی کرو اور سختی نہ کرو، خوش کرو اور نفرت نہ دلاؤ۔ یہ حدیث دعوت، تعلیم، نصیحت اور لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے کا بنیادی انداز بتاتی ہے۔ دین کی بات اس طرح کہی جائے کہ سننے والے کے لیے راستہ آسان ہو، غیر ضروری سختی پیدا نہ ہو۔ اسی طرح بات میں خوش خبری اور امید ہو، ایسا انداز نہ ہو جس سے آدمی دین سے دور ہو جائے۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ دین کے احکام بدل دیے جائیں، بلکہ جو بات کہی جائے وہ آسان، واضح اور دل کے قریب انداز میں کہی جائے۔ اس لیے آسانی کرو سختی نہ کرو والی حدیث ہر داعی، استاد اور نصیحت کرنے والے کے لیے بڑی رہنمائی رکھتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین کی بات آسان انداز میں سمجھانی چاہیے۔
- لوگوں کو خوش خبری دینا اچھی بات ہے۔
- ایسا انداز نہیں اپنانا چاہیے جس سے لوگ دور ہوں۔
- نصیحت میں سختی کے بجائے نرمی بہتر ہے۔
