صحیح بخاری حدیث ۶۸ - وعظ میں نرمی اور مناسب وقت

وعظ اور نصیحت میں مناسب وقت کا خیال

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الْأَيَّامِ كَرَاهَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا " .

عبداللہ بن مسعود روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نصیحت فرمانے کے لیے کچھ دن مقرر کر دیئے تھے اس ڈر سے کہ کہیں ہم کبیدہ خاطر نہ ہو جائیں۔

صحیح بخاری حدیث ۶۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نصیحت کرنے کے لیے کچھ دن مقرر فرماتے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ کہیں ہم اکتا نہ جائیں یا دل تنگ نہ ہو جائے۔ یہ حدیث وعظ، نصیحت اور تعلیم کے انداز پر بہت صاف رہنمائی دیتی ہے۔ دین کی بات ضرور کہنی چاہیے، مگر اس طرح کہ سننے والوں کے دل بیزار نہ ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے حال کا خیال رکھتے تھے۔ آپ ہر وقت لمبی نصیحت نہیں فرماتے تھے بلکہ موقع، وقت اور لوگوں کی طبیعت کا لحاظ فرماتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اچھی بات بھی مناسب وقت پر، آسان انداز میں اور سننے والوں کی گنجائش دیکھ کر کہنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نصیحت کے لیے مناسب وقت کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • بار بار وعظ سے سننے والے اکتا سکتے ہیں۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کی طبیعت کا خیال رکھتے تھے۔
  • دینی تعلیم میں نرمی اور حکمت ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں