صحیح بخاری حدیث ۷۰ - نصیحت میں وقفہ اور حکمت
ہر روز نہیں، مناسب وقت پر نصیحت: ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا طریقہ
صحیح بخاری : ۷۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : " كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُذَكِّرُ النَّاسَ فِي كُلِّ خَمِيسٍ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، لَوَدِدْتُ أَنَّكَ ذَكَّرْتَنَا كُلَّ يَوْمٍ ، قَالَ : أَمَا إِنَّهُ يَمْنَعُنِي مِنْ ذَلِكَ أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُمِلَّكُمْ ، وَإِنِّي أَتَخَوَّلُكُمْ بِالْمَوْعِظَةِ كَمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّلُنَا بِهَا مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا " .
ابووائل روایت:
عبداللہ (ابن مسعود) رضی اللہ عنہ ہر جمعرات کے دن لوگوں کو وعظ سنایا کرتے تھے۔ ایک آدمی نے ان سے کہا اے ابوعبدالرحمٰن! میں چاہتا ہوں کہ تم ہمیں ہر روز وعظ سنایا کرو۔ انہوں نے فرمایا، تو سن لو کہ مجھے اس امر سے کوئی چیز مانع ہے تو یہ کہ میں یہ بات پسند نہیں کرتا کہ کہیں تم تنگ نہ ہو جاؤ اور میں وعظ میں تمہاری فرصت کا وقت تلاش کیا کرتا ہوں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس خیال سے کہ ہم کبیدہ خاطر نہ ہو جائیں، وعظ کے لیے ہمارے اوقات فرصت کا خیال رکھتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو وائل بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہر جمعرات لوگوں کو وعظ سناتے تھے۔ ایک شخص نے کہا کہ میری خواہش ہے آپ ہمیں ہر روز نصیحت کیا کریں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اس لیے ہر روز وعظ نہیں کرتا کہ کہیں تم اکتا نہ جاؤ۔ پھر انہوں نے بتایا کہ میں تمہارے لیے وعظ کا مناسب وقت تلاش کرتا ہوں، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے وعظ کے اوقات کا خیال رکھتے تھے تاکہ ہم کبیدہ خاطر نہ ہو جائیں۔ اس حدیث سے وعظ میں حکمت، سننے والوں کی حالت کا خیال اور نصیحت میں مناسب وقفہ رکھنے کا سبق ملتا ہے۔ دین کی بات محبت سے اور ایسی مقدار میں ہو کہ دل قبول کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وعظ کے لیے سننے والوں کی فرصت کا خیال رکھنا چاہیے۔
- ہر روز نصیحت کرنا ہر حال میں ضروری نہیں۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو اکتاہٹ سے بچاتے تھے۔
- ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی پیروی کی۔
