صحیح بخاری حدیث ۶۶ - علم کی مجلس اور تین آدمیوں کا حال

علم کی مجلس میں آنے والے تین آدمیوں کا سبق

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ مَعَهُ إِذْ أَقْبَلَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ ، فَأَقْبَلَ اثْنَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَهَبَ وَاحِدٌ ، قَالَ : فَوَقَفَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَرَأَى فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ فِيهَا ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ ، وَأَمَّا الثَّالِثُ فَأَدْبَرَ ذَاهِبًا ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنِ النَّفَرِ الثَّلَاثَةِ ، أَمَّا أَحَدُهُمْ فَأَوَى إِلَى اللَّهِ فَآوَاهُ اللَّهُ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَاسْتَحْيَا فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ " .

ابوواقد اللیثی روایت:

ایک مرتبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے کہ تین آدمی وہاں آئے (ان میں سے) دو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پہنچ گئے اور ایک واپس چلا گیا۔ (راوی کہتے ہیں کہ) پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو گئے۔اس کے بعد ان میں سے ایک نے (جب) مجلس میں (ایک جگہ کچھ) گنجائش دیکھی، تو وہاں بیٹھ گیا اور دوسرا اہل مجلس کے پیچھے بیٹھ گیا اور تیسرا جو تھا وہ لوٹ گیا۔ تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اپنی گفتگو سے) فارغ ہوئے (تو صحابہ رضی اللہ عنہم سے) فرمایا کہ کیا میں تمہیں تین آدمیوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ تو (سنو) ان میں سے ایک نے اللہ سے پناہ چاہی اللہ نے اسے پناہ دی اور دوسرے کو شرم آئی تو اللہ بھی اس سے شرمایا (کہ اسے بھی بخش دیا) اور تیسرے شخص نے منہ موڑا، تو اللہ نے (بھی) اس سے منہ موڑ لیا۔

صحیح بخاری حدیث ۶۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں تین آدمیوں کا واقعہ بیان ہوا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آئے۔ دو آدمی آپ کے سامنے پہنچ گئے اور ایک واپس چلا گیا۔ پہلے آدمی نے مجلس میں جگہ دیکھی تو وہاں بیٹھ گیا۔ دوسرے کو جگہ نہ ملی یا اس نے پیچھے بیٹھنا مناسب سمجھا، تو وہ لوگوں کے پیچھے بیٹھ گیا۔ تیسرا آدمی منہ موڑ کر چلا گیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی گفتگو سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ ایک نے اللہ سے پناہ چاہی، اللہ نے اسے پناہ دی۔ دوسرے کو شرم آئی، اللہ نے اس سے شرم فرمائی۔ اور تیسرے نے منہ موڑا، اللہ نے بھی اس سے منہ موڑ لیا۔ یہ حدیث علم کی مجلس، ادب، حیا اور دینی بات سے منہ نہ موڑنے کا صاف سبق دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • علم کی مجلس میں جگہ ملے تو ادب سے بیٹھ جانا چاہیے۔
  • پیچھے بیٹھنے والا بھی محروم نہیں رہا۔
  • دینی مجلس سے منہ موڑنا اچھی بات نہیں۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں کے عمل کا الگ الگ حال بتایا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں