صحیح بخاری حدیث ۶۴۱۱ - نصیحت میں اعتدال
نصیحت میں اعتدال: دین کی بات ایسے کریں کہ دل اکتا نہ جائے
صحیح بخاری : ۶۴۱۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۱۱
حدثنا عمر بن حفص ، حدثنا أبي ، حدثنا الأعمش ، حدثني شقيق ، قال : كنا ننتظر عبد الله إذ جاء يزيد بن معاوية ، فقلنا : ألا تجلس ؟ قال : لا ، ولكن أدخل فاخرج إليكم صاحبكم ، وإلا جئت أنا فجلست ، فخرج عبد الله ، وهو آخذ بيده ، فقام علينا ، فقال : أما إني أخبر بمكانكم ، ولكنه " يمنعني من الخروج إليكم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يتخولنا بالموعظة في الأيام كراهية السامة علينا " .
شقیق روایت:
ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتظار کر رہے تھے کہ یزید بن معاویہ آئے۔ ہم نے کہا، تشریف رکھئے لیکن انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، میں اندر جاؤں گا اور تمہارے ساتھ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کو باہر لاؤں گا۔ اگر وہ نہ آئے تو میں ہی تنہا آ جاؤں گا اور تمہارے ساتھ بیٹھوں گا۔پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے اور وہ یزید بن معاویہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے پھر ہمارے سامنے کھڑے ہوئے کہنے لگے میں جان گیا تھا کہ تم یہاں موجود ہو۔ پس میں جو نکلا تو اس وجہ سے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ مقررہ دنوں میں ہم کو وعظ فرمایا کرتے تھے، (فاصلہ دے کر) آپ کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ کہیں ہم اکتا نہ جائیں۔
صحیح بخاری حدیث ۶۴۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک اہم تربیتی بات بیان کی۔ لوگ ان کا انتظار کر رہے تھے، مگر انہوں نے بتایا کہ میں تمہارے پاس ہر وقت اس لیے نہیں آتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مقررہ دنوں میں نصیحت فرمایا کرتے تھے، تاکہ ہم اکتا نہ جائیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کی بات، وعظ اور نصیحت میں اعتدال ضروری ہے۔ اچھی بات بھی اگر ایسے انداز میں کی جائے کہ سننے والے تھک جائیں، تو فائدہ کم ہو سکتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ نصیحت دل پر اثر کرے، بوجھ نہ بنے۔ یہ حدیث دینی تعلیم، وعظ، تربیت اور آسان انداز میں سمجھانے کے لیے بہت اہم اصول دیتی ہے۔ گھر، مسجد، درس یا مجلس میں بات کرتے وقت سننے والوں کی حالت کا خیال رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نصیحت وقفے وقفے سے کرنا بہتر ہے تاکہ سننے والے اکتا نہ جائیں۔
- دینی تعلیم میں سننے والوں کی حالت کا خیال رکھنا چاہیے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز تربیت آسان اور حکمت والا تھا۔
- وعظ کا مقصد دل پر اثر ڈالنا ہے، صرف زیادہ بولنا نہیں۔
