صحیح بخاری حدیث ۶۴۱۰ - اللہ کے ننانوے نام

اللہ کے 99 نام: اسماء حسنیٰ یاد رکھنے کی فضیلت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۱۰

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَفِظْنَاهُ مِنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، رِوَايَةً قَالَ : " لِلَّهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ اسْمًا ، مِائَةٌ إِلَّا وَاحِدًا لَا يَحْفَظُهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَهُوَ وَتْرٌ يُحِبُّ الْوَتْرَ " .

ابوہریرہ روایت:

اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، ایک کم سو، جو شخص بھی انہیں یاد کر لے گا جنت میں جائے گا۔ اللہ طاق ہے اور طاق کو پسند کرتا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۴۱۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، یعنی ایک کم سو۔ حدیث کے الفاظ کے مطابق جو شخص انہیں یاد کر لے گا، وہ جنت میں جائے گا۔ اس میں اللہ کے ناموں کی عظمت اور ان سے تعلق کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ اللہ کے نام صرف گننے کے لیے نہیں، بلکہ انہیں یاد رکھنا، سمجھنا اور اللہ کو اس کے پاک ناموں کے ساتھ پکارنا بندے کے دل میں اللہ کی معرفت بڑھاتا ہے۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ اللہ طاق ہے اور طاق کو پسند کرتا ہے۔ اس لیے اسماء حسنیٰ، اللہ کے 99 نام، اور اللہ کو یاد کرنے کا موضوع ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کو اس کے بہترین ناموں کے ذریعے پہچانے اور یاد رکھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں۔
  • ان ناموں کو یاد رکھنے کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
  • اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق کو پسند کرتا ہے۔
  • اللہ کو اس کے پاک ناموں سے یاد کرنا ایمان کو تازہ رکھتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں