صحیح بخاری حدیث ۱۳۰۲ - صدمے کے آغاز میں صبر

صبر کی حدیث: اصل صبر پہلے صدمے پر ہوتا ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۰۲

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ , قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى " .

انس روایت:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبر تو وہی ہے جو صدمہ کے شروع میں کیا جائے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۳۰۲ کا خلاصہ

یہ مختصر مگر بہت گہری صبر کی حدیث ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صبر وہی ہے جو صدمے کے شروع میں کیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب مصیبت تازہ ہو، دل کو دھچکا لگے، اور انسان فوراً کچھ کہنے یا کرنے لگے، اسی وقت خود کو سنبھالنا اصل صبر ہے۔ بعد میں تو وقت کے ساتھ دل کچھ نہ کچھ سنبھل ہی جاتا ہے، مگر پہلے لمحے میں زبان، دل اور عمل کو قابو میں رکھنا بڑی بات ہے۔ یہ حدیث غم میں صبر، صدمے میں صبر، اور مشکل وقت میں خود کو روکنے کا سیدھا سبق دیتی ہے۔ اس میں لمبی بات نہیں، مگر زندگی کے مشکل لمحوں کے لیے واضح رہنمائی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اصل صبر صدمے کے شروع میں خود کو قابو میں رکھنے کا نام ہے۔
  • مصیبت کے پہلے لمحے میں زبان اور عمل پر دھیان رکھنا چاہیے۔
  • وقت گزرنے کے بعد سنبھلنا آسان ہو سکتا ہے، مگر پہلے لمحے کا صبر خاص ہے۔
  • یہ حدیث غم کے وقت جلد بازی سے بچنے کی تعلیم دیتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں