صحیح بخاری حدیث ۱۳۰۴ - آنسو نہیں، زبان کا حساب ہے
نوحہ کی حدیث: غم میں زبان کی حفاظت کیوں ضروری ہے؟
صحیح بخاری : ۱۳۰۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۰۴
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ , قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : " اشْتَكَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ شَكْوَى لَهُ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ فَوَجَدَهُ فِي غَاشِيَةِ أَهْلِهِ , فَقَالَ : قَدْ قَضَى ؟ , قَالُوا : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَبَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمُ بُكَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكَوْا , فَقَالَ : أَلَا تَسْمَعُونَ إِنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَيْنِ وَلَا بِحُزْنِ الْقَلْبِ وَلَكِنْ يُعَذِّبُ بِهَذَا وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ أَوْ يَرْحَمُ ، وَإِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ، وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَضْرِبُ فِيهِ بِالْعَصَا وَيَرْمِي بِالْحِجَارَةِ وَيَحْثِي بِالتُّرَابِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کسی مرض میں مبتلا ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کے لیے عبدالرحمٰن بن عوف ‘ سعد بن ابی وقاص اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کے ساتھ ان کے یہاں تشریف لے گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر گئے تو تیمار داروں کے ہجوم میں انہیں پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا وفات ہو گئی؟ لوگوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (ان کے مرض کی شدت کو دیکھ کر) رو پڑے۔لوگوں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روتے ہوئے دیکھا تو وہ سب بھی رونے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سنو! اللہ تعالیٰ آنکھوں سے آنسو نکلنے پر بھی عذاب نہیں کرے گا اور نہ دل کے غم پر۔ ہاں اس کا عذاب اس کی وجہ سے ہوتا ہے ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان کی طرف اشارہ کیا (اور اگر اس زبان سے اچھی بات نکلے تو) یہ اس کی رحمت کا بھی باعث بنتی ہے اور میت کو اس کے گھر والوں کے نوحہ و ماتم کی وجہ سے بھی عذاب ہوتا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ میت پر ماتم کرنے پر ڈنڈے سے مارتے ‘ پتھر پھینکتے اور رونے والوں کے منہ میں مٹی جھونک دیتے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۰۴ کا خلاصہ
یہ حدیث نوحہ کی حدیث اور غم میں زبان کی حفاظت کے موضوع پر واضح رہنمائی دیتی ہے۔ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیمار تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ ان کی حالت دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے، تو لوگ بھی رونے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسو اور دل کے غم پر عذاب نہیں دیتا۔ عذاب یا رحمت کا تعلق زبان سے نکلنے والی بات سے ہو سکتا ہے۔ اسی حدیث میں میت پر گھر والوں کے نوحہ و ماتم کا ذکر بھی آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غم میں رونا الگ بات ہے، مگر زبان سے غلط کلمات اور ماتمی شور سے بچنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آنکھ سے آنسو آنا اور دل کا غم ہونا قابل گرفت نہیں بتایا گیا۔
- زبان سے نکلنے والی بات انسان کے لیے عذاب یا رحمت کا سبب بن سکتی ہے۔
- میت پر نوحہ و ماتم سے بچنے کی تاکید ملتی ہے۔
- عیادت کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت بھی ظاہر ہوتی ہے۔
