صحیح بخاری حدیث ۱۳۰۵ - نوحہ سے روکنے کا حکم

نوحہ سے منع کرنے کی حدیث: غم میں حد سے نہ بڑھنا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۰۵

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ قَالَتْ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , تَقُولُ : لَمَّا جَاءَ قَتْلُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، وَجَعْفَرٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ جَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ ، وَأَنَا أَطَّلِعُ مِنْ شَقِّ الْبَابِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ وَذَكَرَ بُكَاءَهُنَّ , فَأَمَرَهُ بِأَنْ يَنْهَاهُنَّ , فَذَهَبَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَى , فَقَالَ : قَدْ نَهَيْتُهُنَّ وَذَكَرَ أَنَّهُنَّ لَمْ يُطِعْنَهُ , فَأَمَرَهُ الثَّانِيَةَ أَنْ يَنْهَاهُنَّ , فَذَهَبَ ثُمَّ أَتَى , فَقَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ غَلَبْنَنِي أَوْ غَلَبْنَنَا الشَّكُّ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ ، فَزَعَمَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ , فَقُلْتُ : أَرْغَمَ اللَّهُ أَنْفَكَ فَوَاللَّهِ مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ وَمَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَنَاءِ " .

عائشہ روایت:

جب زید بن حارثہ ‘ جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بیٹھے کہ غم کے آثار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر نمایاں تھے میں دروازے کے ایک سوراخ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہی تھی۔ اتنے میں ایک صاحب آئے اور کہا کہ یا رسول اللہ! جعفر کے گھر کی عورتیں نوحہ اور ماتم کر رہی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روکنے کے لیے کہا۔ وہ صاحب گئے لیکن پھر واپس آ گئے اور کہا کہ وہ نہیں مانتیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ روکنے کے لیے بھیجا۔ وہ گئے اور پھر واپس چلے آئے۔ کہا کہ بخدا وہ تو مجھ پر غالب آ گئی ہیں یا یہ کہا کہ ہم پر غالب آ گئی ہیں۔ شک محمد بن حوشب کو تھا۔ (عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ) میرا یقین یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ان کے منہ میں مٹی جھونک دے۔ اس پر میری زبان سے نکلا کہ اللہ تیری ناک خاک آلودہ کرے تو نہ تو وہ کام کر سکا جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دینا چھوڑتا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۳۰۵ کا خلاصہ

یہ حدیث نوحہ سے منع کرنے کی حدیث کے طور پر آتی ہے۔ زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غم کے آثار ظاہر تھے۔ اسی وقت ایک شخص نے بتایا کہ جعفر رضی اللہ عنہ کے گھر کی عورتیں نوحہ کر رہی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روکنے کا حکم دیا۔ وہ شخص واپس آ کر کہتا رہا کہ وہ نہیں مانتیں، تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس پر سخت بات کہی کہ نہ تم حکم پورا کر سکے اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دینا چھوڑتے ہو۔ حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ غم اپنی جگہ ہے، مگر نوحہ سے روکا گیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بڑے غم کے وقت بھی نوحہ اور ماتم سے روکنے کا حکم دیا گیا۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غم کے آثار تھے، مگر حکم واضح رہا۔
  • کسی دینی حکم کو پہنچانے اور نافذ کرنے میں سنجیدگی ہونی چاہیے۔
  • غم کے نام پر حد سے بڑھنے والی آوازوں اور رویوں سے بچنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں