صحیح بخاری حدیث ۶۶۰۱ - نکاح، طلاق اور تقدیر
کسی عورت کی طلاق کا مطالبہ نہ کرو: نکاح کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۶۰۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۰۱
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَهَا وَلْتَنْكِحْ ، فَإِنَّ لَهَا مَا قُدِّرَ لَهَا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی عورت اپنی کسی (دینی) بہن کی طلاق کا مطالبہ (شوہر سے) نہ کرے کہ اس کے گھر کو اپنے ہی لیے خاص کر لینا چاہے۔ بلکہ اسے نکاح (دوسری عورت کی موجودگی میں بھی) کر لینا چاہئے کیونکہ اسے اتنا ہی ملے گا جتنا اس کے مقدر میں ہو گا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع نکاح، طلاق اور تقدیر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی عورت اپنی دینی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے حصے کو اپنے لیے خالی کر لے۔ بلکہ وہ نکاح کر لے، کیونکہ اسے وہی ملے گا جو اس کے لیے مقدر کیا گیا ہے۔ اس حدیث میں نکاح کے معاملے میں انصاف اور دل کی صفائی کا سبق ہے۔ کسی دوسری عورت کو ہٹانے کی خواہش درست رویہ نہیں۔ حدیث میں یہ بھی بتایا گیا کہ انسان کو اپنے حصے پر راضی رہنا چاہیے، کیونکہ رزق، حصہ اور نصیب اللہ کے حکم سے ہے۔ یہ حدیث حسد اور خود غرضی سے بچنے کی تعلیم دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی عورت کو دوسری عورت کی طلاق کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے۔
- نکاح کے معاملے میں خود غرضی اور حسد سے بچنا چاہیے۔
- ہر شخص کو وہی ملتا ہے جو اس کے لیے مقدر ہے۔
- دوسرے کے حق کو ختم کر کے اپنا فائدہ چاہنا درست نہیں۔
