صحیح بخاری حدیث ۲۱۴۰ - خرید و فروخت اور نکاح میں دیانت
تجارت اور نکاح کے آداب: نجش، مداخلت اور انصاف کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۱۴۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۴۰
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلَا تَنَاجَشُوا ، وَلَا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ ، وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ ، وَلَا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْفَأَ مَا فِي إِنَائِهَا " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال و اسباب بیچے اور یہ کہ کوئی (سامان خریدنے کی نیت کے بغیر دوسرے اصل خریداروں سے) بڑھ کر بولی نہ دے۔ اسی طرح کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے میں مداخلت نہ کرے۔ کوئی شخص (کسی عورت کو) دوسرے کے پیغام نکاح ہوتے ہوئے اپنا پیغام نہ بھیجے۔ اور کوئی عورت اپنی کسی دینی بہن کو اس نیت سے طلاق نہ دلوائے کہ اس کے حصہ کو خود حاصل کر لے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۴۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں کئی معاشرتی اور تجارتی آداب ایک ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال اس طرح بیچے، کوئی شخص خریدنے کی نیت کے بغیر قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ دے، کوئی اپنے بھائی کے سودے میں مداخلت نہ کرے، کوئی دوسرے کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نہ بھیجے، اور کوئی عورت اپنی دینی بہن کو اس نیت سے طلاق نہ دلوائے کہ اس کا حصہ خود لے لے۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام دیانت، انصاف اور دوسروں کے حق کا احترام ہے۔ تجارت ہو یا نکاح، انسان کو صرف اپنے فائدے کے لیے دوسرے کا راستہ نہیں کاٹنا چاہیے۔ یہ روایت بازار اور گھر دونوں کے لیے اخلاقی حدیں بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جھوٹی یا مصنوعی بولی یعنی نجش سے منع کیا گیا ہے۔
- بھائی کے سودے اور پیغام نکاح میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
- اپنے فائدے کے لیے دوسرے کا حق ختم کرانا درست رویہ نہیں۔
