صحیح بخاری حدیث ۲۱۳۹ - بھائی کے سودے میں دخل نہ دو

بھائی کے سودے پر سودا نہ کرو: تجارت میں اخلاق کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۳۹

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَبِيعُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کوئی شخص اپنے بھائی کی خرید و فروخت میں دخل اندازی نہ کرے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۱۳۹ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع خرید و فروخت میں اخلاق ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنے بھائی کی خرید و فروخت میں دخل اندازی نہ کرے۔ سادہ زبان میں بات یہ ہے کہ جب دو لوگ کسی سودے میں بات کر رہے ہوں، تو تیسرا شخص آ کر معاملہ خراب نہ کرے، بہتر دام یا نئی پیشکش کے ذریعے دوسرے کے حق کو نہ کاٹے۔ حدیث میں لفظ بھائی آیا ہے، جو مسلمانوں کے باہمی احترام اور خیر خواہی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ تجارت صرف نفع کمانے کا نام نہیں، بلکہ دوسروں کے معاملات کا لحاظ رکھنے کا نام بھی ہے۔ یہ حدیث بازار، کاروبار اور روزمرہ خریداری میں شرافت اور انصاف کا صاف سبق دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کسی کے جاری سودے میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
  • تجارت میں مسلمان بھائی کے حق اور عزت کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • نفع کے لیے دوسروں کا معاملہ خراب کرنا پسندیدہ طریقہ نہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں