حدیث ۳۳۴۵

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۳۴۵

حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ عُوَيْمِرِ بْنِ الْأَجْدَعِ ، عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَهُ : أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عَنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي الْفِتْنَةِ ، فَأَتَتْهُ مَوْلَاةٌ لَهُ تُسَلِّمُ عَلَيْهِ ، فقَالَت : إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، اشْتَدَّ عَلَيْنَا الزَّمَانُ ، فقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ : اقْعُدِي لَكَاعِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .

‏‏‏‏ یحنس زبیر کے آزاد کردہ غلام سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آزاد باندی آئی اور ان کو سلام کیا اور یہ فتنہ کے دن تھے (یعنی فتنہ حرہ کے دن جس کا ذکر ابھی تھوڑی دیر پہلے گزرا) اور اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! (یہ کنیت ہے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی) ہم پر سخت دن ہیں اور میں ارادہ کرتی ہوں مدینہ سے نکلنے کا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہ بیٹھ اے نادان! اس لئے کہ میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ فرماتے تھے: ”جو صبر کرے گا مدینہ کی بھوک، پیاس اور مشقت پر تو میں اس کا شفیع ہوں گا (یعنی اگر وہ گنہگار ہے) یا گواہ ہوں گا (یعنی اگر وہ نیکوکار ہے) قیامت کے دن۔“

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں