صحیح بخاری حدیث ۲۱۳۸ - ہجرت کی تیاری اور ابوبکرؓ کی رفاقت

ہجرت کی حدیث: ابوبکرؓ کی رفاقت اور نبی صلى الله عليه وسلم کی امانت داری

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۳۸

حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " لَقَلَّ يَوْمٌ كَانَ يَأْتِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلَّا يَأْتِي فِيهِ بَيْتَ أَبِي بَكْرٍ أَحَدَ طَرَفَيِ النَّهَارِ ، فَلَمَّا أُذِنَ لَهُ فِي الْخُرُوجِ إِلَى الْمَدِينَةِ لَمْ يَرُعْنَا إِلَّا وَقَدْ أَتَانَا ظُهْرًا ، فَخُبِّرَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ : مَا جَاءَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ إِلَّا لِأَمْرٍ حَدَثَ ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ : أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا هُمَا ابْنَتَايَ يَعْنِي عَائِشَةَ وَأَسْمَاءَ ، قَالَ : أَشَعَرْتَ أَنَّهُ قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ ، قَالَ : الصُّحْبَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : الصُّحْبَةَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عِنْدِي نَاقَتَيْنِ أَعْدَدْتُهُمَا لِلْخُرُوجِ ، فَخُذْ إِحْدَاهُمَا ، قَالَ : قَدْ أَخَذْتُهَا بِالثَّمَنِ " .

عائشہ روایت:

ایسے دن (مکی زندگی میں) بہت ہی کم آئے، جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح و شام میں کسی نہ کسی وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف نہ لائے ہوں۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کی طرف ہجرت کی اجازت دی گئی، تو ہماری گھبراہٹ کا سبب یہ ہوا کہ آپ (معمول کے خلاف اچانک) ظہر کے وقت ہمارے گھر تشریف لائے۔ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی اطلاع دی گئی تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہمارے یہاں کوئی نئی بات پیش آنے ہی کی وجہ سے تشریف لائے ہیں۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت جو لوگ تمہارے پاس ہوں انہیں ہٹا دو۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! یہاں تو صرف میری یہی دو بیٹیاں ہیں یعنی عائشہ اور اسماء رضی اللہ عنہما۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں معلوم بھی ہے مجھے تو یہاں سے نکلنے کی اجازت مل گئی ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میرے پاس دو اونٹنیاں ہیں جنہیں میں نے نکلنے ہی کے لیے تیار کر رکھا تھا۔ آپ ان میں سے ایک لے لیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا، قیمت کے بدلے میں، میں نے ایک اونٹنی لے لی۔

صحیح بخاری حدیث ۲۱۳۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع ہجرت کی اجازت، رفاقت اور معاملے کی امانت داری ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم عام طور پر صبح یا شام حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر آتے تھے، مگر ایک دن ظہر کے وقت تشریف لائے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سمجھ لیا کہ کوئی اہم بات ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مجھے مدینہ کی طرف نکلنے کی اجازت مل گئی ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رفاقت کی درخواست کی، جو قبول ہوئی۔ پھر انہوں نے دو اونٹنیوں میں سے ایک پیش کی، مگر آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے قیمت کے بدلے لینا پسند فرمایا۔ اس حدیث میں سفر کی تیاری، راز داری، دوستی اور مالی معاملے کی صفائی سب صاف نظر آتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اہم کاموں میں مناسب تیاری اور راز داری اختیار کی جا سکتی ہے۔
  • حضرت ابوبکرؓ کی نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ رفاقت اس حدیث میں نمایاں ہے۔
  • تحفہ ملنے پر بھی قیمت دے کر معاملہ صاف رکھنا نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں