صحیح بخاری حدیث ۲۱۳۷ - غلہ اپنے ٹھکانے پر لانے سے پہلے نہ بیچو
جزاف غلہ کی حدیث: ٹھکانے پر لانے سے پہلے فروخت منع
صحیح بخاری : ۲۱۳۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۳۷
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُ النَّاسَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْتَاعُونَ جِزَافًا يَعْنِي الطَّعَامَ ، يُضْرَبُونَ أَنْ يَبِيعُوهُ فِي مَكَانِهِمْ ، حَتَّى يُؤْوُوهُ إِلَى رِحَالِهِمْ ".
عبداللہ بن عمر روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں دیکھا کہ لوگوں کو اس پر تنبیہ کی جاتی جب وہ غلہ کا ڈھیر خرید کر کے اپنے ٹھکانے پر لانے سے پہلے ہی اس کو بیچ ڈالتے۔ یعنی غلہ تو اس بات پر انہیں سزا دی جاتی تھی کہ وہ اس کو اپنے ٹھکانے پر لانے سے پہلے اس کو بیچ ڈالیں۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۳۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے مشاہدے کا ذکر کیا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں لوگ اندازے سے غلہ کے ڈھیر خریدتے تھے۔ اگر وہ اسے اپنے ٹھکانے پر لانے سے پہلے اسی جگہ بیچ دیتے تو انہیں تنبیہ کی جاتی۔ اس روایت میں غلہ کے ڈھیر، اندازے کی خرید، اور جگہ بدلنے کا ذکر ہے۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ خریدی ہوئی چیز کو پہلے خریدار کے اختیار اور مقام میں آنا چاہیے۔ پھر اسے آگے فروخت کیا جائے۔ اس سے لین دین کا معاملہ زیادہ صاف، ناپ تول کے قریب اور نزاع سے دور رہتا ہے۔ حدیث تجارت میں جلد بازی سے بچانے اور قبضہ کو واضح کرنے کی عملی تعلیم دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جزاف خریدے گئے غلہ کو جگہ بدلے بغیر فروخت کرنے سے روکا گیا۔
- اپنے ٹھکانے پر لانا قبضہ کو واضح کرتا ہے۔
- تجارت میں جلد بازی کے بجائے نظم بہتر ہے۔
