صحیح بخاری حدیث ۲۱۳۶ - غلہ خرید کر قبضہ سے پہلے فروخت نہ کرو

غلہ کی فروخت کا اصول: مکمل قبضہ کے بعد ہی بیع

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۳۶

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ " ، زَادَ إِسْمَاعِيلُ : مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ .

ابن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو شخص بھی جب غلہ خریدے تو جب تک اسے پوری طرح قبضہ میں نہ لے لے، نہ بیچے۔ اسماعیل نے یہ زیادتی کی ہے کہ جو شخص کوئی غلہ خریدے تو اس پر قبضہ کرنے سے پہلے نہ بیچے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۱۳۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو شخص غلہ خریدے، وہ اسے اس وقت تک نہ بیچے جب تک اسے پوری طرح حاصل نہ کر لے۔ روایت میں یہ الفاظ بھی آئے کہ قبضہ کرنے سے پہلے نہ بیچے۔ دونوں الفاظ ایک ہی عملی بات کو واضح کرتے ہیں کہ خریدار کے پاس مال صرف کاغذی یا زبانی طور پر نہیں، بلکہ واقعی طور پر آ جائے۔ غلہ کی تجارت میں مقدار، جگہ اور وصولی واضح ہونی چاہیے۔ اگر مال ابھی ہاتھ میں نہیں آیا تو آگے بیچنے میں جھگڑا، تاخیر یا غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ حدیث تجارت میں سنجیدگی اور صاف لین دین کی مضبوط ہدایت دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • غلہ کو مکمل وصول کرنے سے پہلے بیچنا منع ہے۔
  • قبضہ اور استیفاء دونوں معاملے کی تکمیل کو ظاہر کرتے ہیں۔
  • خرید و فروخت میں وضاحت اور احتیاط ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں