صحیح بخاری حدیث ۲۱۳۵ - قبضہ سے پہلے غلہ کی بیع

قبضہ سے پہلے بیع: غلہ کی حدیث اور ابن عباسؓ کا فہم

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۳۵

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : الَّذِي حَفِظْنَاهُ مِنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعَ طَاوُسًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " أَمَّا الَّذِي نَهَى عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ الطَّعَامُ أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُقْبَضَ " ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَلَا أَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا مِثْلَهُ .

طاؤس روایت:

میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے سنا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز سے منع فرمایا تھا، وہ اس غلہ کی بیع تھی جس پر ابھی قبضہ نہ کیا گیا ہو، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا، میں تو تمام چیزوں کو اسی کے حکم میں سمجھتا ہوں۔

صحیح بخاری حدیث ۲۱۳۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی ممانعت کو بیان کیا کہ جس غلہ پر قبضہ نہ کیا گیا ہو، اسے بیچا نہ جائے۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنا فہم بھی بیان کیا کہ میں تمام چیزوں کو اسی کے حکم میں سمجھتا ہوں۔ اس میں دو باتیں صاف ہیں: پہلی یہ کہ اصل نص غلہ کے بارے میں ہے، اور دوسری یہ کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس اصول کو وسیع طور پر سمجھا۔ ہمیں وضاحت کے ساتھ بات کرنی چاہیے کہ حدیث میں براہ راست غلہ کا ذکر ہے۔ تجارت میں خریدار کے لیے ضروری ہے کہ پہلے مال کو اپنے اختیار میں لے، پھر آگے فروخت کرے۔ یہ طریقہ معاملے کو زیادہ صاف اور سنبھلا ہوا بناتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث میں غلہ پر قبضہ سے پہلے بیع منع کی گئی ہے۔
  • ابن عباسؓ نے اس اصول کو عام چیزوں پر بھی سمجھا۔
  • خریدی ہوئی چیز پر اختیار واضح ہونا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں