صحیح بخاری حدیث ۲۱۳۴ - سونا، گندم، کھجور اور جو میں ربا
ربا کی حدیث: سونا، گندم، کھجور اور جو کا نقد سودا
صحیح بخاری : ۲۱۳۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۳۴
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كَانَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ يُحَدِّثُهُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : مَنْ عِنْدَهُ صَرْفٌ ؟ فَقَالَ طَلْحَةُ : أَنَا ، حَتَّى يَجِيءَ خَازِنُنَا مِنَ الْغَابَةِ ، قَالَ سُفْيَانُ : هُوَ الَّذِي حَفِظْنَاهُ الزُّهْرِيِّ لَيْسَ فِيهِ زِيَادَةٌ ، فَقَال : أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُخْبِرُ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ " .
مالک بن اوس روایت:
آپ لوگوں میں سے کوئی بیع صرف (یعنی دینار، درہم، اشرفی وغیرہ بدلنے کا کام) کرتا ہے۔ طلحہ نے کہا کہ میں کرتا ہوں، لیکن اس وقت کر سکوں گا جب کہ ہمارا خزانچی غابہ سے آ جائے گا۔سفیان نے بیان کیا کہ زہری سے ہم نے اسی طرح حدیث یاد کی تھی۔ اس میں کوئی زیادتی نہیں تھی۔ پھر انہوں نے کہا کہ مجھے مالک بن اوس نے خبر دی کہ انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سونا سونے کے بدلے میں (خریدنا) سود میں داخل ہے مگر یہ کہ نقدا نقد ہو۔ گیہوں، گیہوں کے بدلے میں (خریدنا بیچنا) سود میں داخل ہے مگر یہ کہ نقدا نقد ہو، کھجور، کھجور کے بدلے میں سود ہے مگر یہ کہ نقدا نقد ہو اور جَو، جَو کے بدلے میں سود ہے مگر یہ کہ نقدا نقد ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۳۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع ربا اور نقد لین دین ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے روایت کیا کہ سونا سونے کے بدلے سود ہے، مگر یہ کہ نقدا نقد ہو۔ اسی طرح گیہوں گیہوں کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے، اور جو جو کے بدلے سود ہے، مگر یہ کہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔ حدیث میں جن چیزوں کا ذکر آیا ہے، انہی کے بارے میں بات کرنی چاہیے: سونا، گیہوں، کھجور اور جو۔ یہاں اصل زور اس بات پر ہے کہ ایک ہی جنس کا تبادلہ ہو تو تاخیر نہ ہو، بلکہ نقد اور فوری معاملہ ہو۔ اس سے لین دین میں صاف گوئی آتی ہے اور ربا سے بچنے کی ہدایت ملتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی جنس کے تبادلے میں نقد لین دین کا حکم بیان ہوا ہے۔
- سونا، گیہوں، کھجور اور جو کے معاملے میں ربا سے بچنے کی تاکید ہے۔
- تجارت میں تاخیر اور غیر واضح ادائیگی خطرناک بن سکتی ہے۔
