صحیح بخاری حدیث ۲۱۳۳ - غلہ قبضہ سے پہلے نہ بیچا جائے
غلہ پر قبضہ کی حدیث: خرید کے بعد پہلے وصولی، پھر فروخت
صحیح بخاری : ۲۱۳۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۳۳
حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا ، فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بھی کوئی غلہ خریدے تو اس پر قبضہ کرنے سے پہلے اسے نہ بیچے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۳۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل پیغام بہت صاف ہے: جو شخص غلہ خریدے، وہ اسے قبضہ کرنے سے پہلے نہ بیچے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ فرمان نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے نقل کیا۔ اس میں تجارت کے لیے سادہ مگر ضروری اصول ہے کہ خریدی ہوئی چیز پہلے خریدار کے قبضے میں آئے۔ صرف قیمت طے ہو جانا یا بات مکمل ہو جانا کافی نہیں، جب تک مال واقعۃً حاصل نہ ہو جائے۔ غلہ جیسی چیز میں مقدار، جگہ اور وصولی اہم ہوتی ہے، اس لیے قبضہ سے پہلے فروخت میں ابہام پیدا ہو سکتا ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اسلامی تجارت میں صاف معاملہ، مکمل وصولی اور ذمہ دارانہ رویہ پسند کیا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غلہ خریدنے کے بعد پہلے قبضہ ضروری ہے۔
- قبضہ سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا گیا۔
- معاملہ مکمل اور واضح ہو تو تجارت بہتر رہتی ہے۔
