صحیح بخاری حدیث ۲۱۷۴ - سونا سونے کے بدلے نقد
بیع صرف کی حدیث: سونا سونے کے بدلے نقد ہونا چاہیے
صحیح بخاری : ۲۱۷۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۷۴
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ : أَنَّهُ الْتَمَسَ صَرْفًا بِمِائَةِ دِينَارٍ ، فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فَتَرَاوَضْنَا حَتَّى اصْطَرَفَ مِنِّي ، فَأَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ ، ثُمَّ قَالَ : حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي مِنَ الْغَابَةِ ، وَعُمَرُ يَسْمَعُ ذَلِكَ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا تُفَارِقُهُ حَتَّى تَأْخُذَ مِنْهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ " .
مالک بن اوس روایت:
´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، اور انہیں مالک بن اوس رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ` انہیں سو اشرفیاں بدلنی تھیں۔ (انہوں نے بیان کیا کہ) پھر مجھے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہما نے بلایا۔ اور ہم نے (اپنے معاملہ کی) بات چیت کی۔ اور ان سے میرا معاملہ طے ہو گیا۔ وہ سونے (اشرفیوں) کو اپنے ہاتھ میں لے کر الٹنے پلٹنے لگے اور کہنے لگے کہ ذرا میرے خزانچی کو غابہ سے آ لینے دو۔عمر رضی اللہ عنہ بھی ہماری باتیں سن رہے تھے، آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! جب تک تم طلحہ سے روپیہ لے نہ لو، ان سے جدا نہ ہونا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سونا سونے کے بدلہ میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتا ہے۔ گیہوں، گیہوں کے بدلے میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتا ہے۔ جَو، جَو کے بدلہ میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتا ہے اور کھجور، کھجور کے بدلہ میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۷۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں مالک بن اوس کے ایک معاملے کا ذکر ہے کہ انہیں سو اشرفیاں بدلنی تھیں۔ طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہما سے معاملہ طے ہوا، مگر انہوں نے کہا کہ خزانچی آنے دے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب تک تم اپنا روپیہ نہ لے لو، جدا نہ ہونا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سونا سونے کے بدلے میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہے۔ اسی طرح گیہوں، جَو اور کھجور کا ذکر بھی آیا کہ اسی جنس کے بدلے نقد ہونا چاہیے۔ اس حدیث کا موضوع بیع صرف، سونا، نقد لین دین اور سود ہے۔ آسان الفاظ میں، ایک ہی جنس کا تبادلہ مؤخر نہ ہو، بلکہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سونا سونے کے بدلے نقد نہ ہو تو سود کا خطرہ بیان ہوا ہے۔
- معاملہ مکمل ہونے سے پہلے جدا نہ ہونے کی تاکید حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمائی۔
- گیہوں، جَو اور کھجور کے لیے بھی ہاتھوں ہاتھ لین دین کا ذکر آیا ہے۔
- بیع صرف میں ادھار سے بچنے کا حکم اس حدیث میں واضح ہے۔
