صحیح بخاری حدیث ۲۱۷۵ - سونا اور چاندی کی برابر بیع
سونا سونے کے بدلے برابر برابر بیچنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۱۷۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۷۵
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ ، وَالْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ ، وَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شِئْتُمْ " .
ابوبکرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سونا سونے کے بدلے میں اس وقت تک نہ بیچو جب تک (دونوں طرف سے) برابر برابر (کی لین دین) نہ ہو۔ اسی طرح چاندی، چاندی کے بدلہ میں اس وقت تک نہ بیچو جب تک (دونوں طرف سے) برابر برابر نہ ہو۔ البتہ سونا، چاندی کے بدل اور چاندی سونے کے بدل میں جس طرح چاہو بیچو۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۷۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سونا سونے کے بدلے نہ بیچو جب تک دونوں طرف سے برابر برابر لین دین نہ ہو۔ اسی طرح چاندی کو چاندی کے بدلے نہ بیچو جب تک برابر برابر نہ ہو۔ پھر فرمایا کہ سونا چاندی کے بدل اور چاندی سونے کے بدل میں جس طرح چاہو بیچو۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع سونا، چاندی، برابر بیع اور بیع صرف ہے۔ حدیث میں ایک جنس کا اسی جنس سے سودا ہو تو برابری کی شرط بیان ہوئی ہے۔ دوسری طرف سونا اور چاندی ایک دوسرے کے بدل ہوں تو متن میں اجازت کے الفاظ آئے ہیں۔ اس سے زیادہ تفصیل خود حدیث میں نہیں دی گئی، اس لیے شرح انہی الفاظ پر قائم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سونا سونے کے بدلے برابر برابر بیچا جائے۔
- چاندی چاندی کے بدلے برابر برابر بیچی جائے۔
- سونا چاندی کے بدل اور چاندی سونے کے بدل بیچنے کی اجازت آئی ہے۔
- ایک ہی جنس کے تبادلے میں کمی بیشی سے بچنے کا حکم بیان ہوا ہے۔
