صحیح بخاری حدیث ۲۱۷۶ - بیع صرف میں برابری
بیع صرف کا حکم: سونا اور چاندی برابر برابر
صحیح بخاری : ۲۱۷۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۷۶
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا عَمِّي ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ حَدَّثَهُ مِثْلَ ذَلِكَ حَدِيثًا ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، فَقَالَ : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، مَا هَذَا الَّذِي تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فِي الصَّرْفِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ ، وَالْوَرِقُ بِالْوَرِقِ مِثْلًا بِمِثْلٍ " .
ابو سعید خدری روایت:
´ہم سے عبیداللہ بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے چچا نے بیان کیا، کہا ہم سے زہری کے بھتیجے نے بیان کیا، ان سے ان کے چچا نے بیان کیا کہ مجھ سے سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اسی طرح ایک حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے بیان کی` (جیسے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ یا عمر رضی اللہ عنہ سے گزری) پھر ایک مرتبہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا، اے ابوسعید! آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے یہ کون سی حدیث بیان کرتے ہیں؟ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حدیث بیع صرف (یعنی روپیہ اشرفیاں بدلنے یا تڑوانے) سے متعلق ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنا تھا کہ سونا سونے کے بدلے میں برابر برابر ہی بیچا جا سکتا ہے اور چاندی، چاندی کے بدلہ میں برابر برابر ہی بیچی جا سکتی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۷۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت نقل ہوئی ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے پوچھا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے کون سی حدیث بیان کرتے ہیں؟ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ حدیث بیع صرف یعنی روپیہ اشرفیاں بدلنے یا تڑوانے سے متعلق ہے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنایا کہ سونا سونے کے بدلے برابر برابر ہی بیچا جا سکتا ہے، اور چاندی چاندی کے بدلے برابر برابر ہی بیچی جا سکتی ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع بیع صرف، سونا، چاندی اور برابری ہے۔ روایت میں سوال و جواب کا انداز بھی ہے، جس سے بات کی تصدیق اور سمجھ کا پہلو سامنے آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیع صرف کے معاملے میں حدیث کی وضاحت طلب کی گئی۔
- سونا سونے کے بدلے برابر برابر بیچا جائے۔
- چاندی چاندی کے بدلے برابر برابر بیچی جائے۔
- دینی مسئلے میں صحابہ رضی اللہ عنہم ایک دوسرے سے پوچھ کر بات واضح کرتے تھے۔
