صحیح بخاری حدیث ۲۱۷۳ - عرایا کی اجازت
عرایا کی حدیث: اندازے سے بیع کی اجازت
صحیح بخاری : ۲۱۷۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۷۳
قَالَ : وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا .
زید بن ثابت روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عرایا کی اجازت دے دی تھی جو اندازے ہی سے بیع کی ایک صورت ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۷۳ کا خلاصہ
اس مختصر حدیث میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کی اجازت دی تھی، اور یہ اندازے ہی سے بیع کی ایک صورت ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع عرایا، اجازت، اندازہ اور بیع ہے۔ یہاں مزابنہ والی ممانعت کے ساتھ ایک خاص اجازت کا ذکر آتا ہے، لیکن خود اس روایت میں عرایا کی لمبی تفصیل نہیں دی گئی۔ اس لیے آسان بات یہی ہے کہ عرایا کو ایک ایسی بیع کہا گیا جس میں اندازہ شامل ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، اس لیے اس سے باہر کوئی شرط یا لمبی تفصیل بیان کرنا مناسب نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کی اجازت دی۔
- عرایا کو اندازے سے بیع کی ایک صورت بتایا گیا ہے۔
- ہر ممانعت کے ساتھ جو خاص اجازت آئی ہو، اسے اسی حد میں سمجھنا چاہیے۔
- حدیث مختصر ہو تو اس کی شرح بھی متن کے مطابق مختصر اور محتاط ہونی چاہیے۔
