صحیح بخاری حدیث ۲۱۷۱ - مزابنہ کی ممانعت
مزابنہ کی حدیث: تازہ پھل کو خشک پھل کے بدلے بیچنا
صحیح بخاری : ۲۱۷۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۷۱
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا ، وَبَيْعُ الزَّبِيبِ بِالْكَرْمِ كَيْلًا " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا، مزابنہ یہ کہ درخت پر لگی ہوئی کھجور خشک کھجور کے بدلہ ماپ کر کے بیچی جائے۔ اسی طرح بیل پر لگے ہوئے انگور کو منقیٰ کے بدل بیچنا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۷۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا۔ حدیث کے اندر ہی مزابنہ کی وضاحت بھی دی گئی ہے کہ درخت پر لگی ہوئی کھجور کو خشک کھجور کے بدلے ماپ کر بیچا جائے، اور اسی طرح بیل پر لگے ہوئے انگور کو منقیٰ کے بدلے بیچنا۔ اس حدیث کا اصل موضوع مزابنہ، کھجور کی بیع، انگور اور منقیٰ کا سودا ہے۔ آسان الفاظ میں، جو پھل ابھی درخت یا بیل پر لگا ہوا ہے، اسے خشک پھل کے بدلے انداز یا ماپ کے ساتھ بیچنے سے منع کیا گیا۔ حدیث میں جو مثالیں آئی ہیں وہ کھجور اور انگور کی ہیں، اس لیے شرح بھی انہی مثالوں پر رکھی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مزابنہ سے منع کیا گیا ہے۔
- درخت کی تازہ کھجور کو خشک کھجور کے بدلے ماپ کر بیچنے کی ممانعت آئی ہے۔
- بیل پر لگے انگور کو منقیٰ کے بدلے بیچنا بھی مزابنہ میں بیان ہوا ہے۔
- حدیث خود مزابنہ کا مطلب واضح کرتی ہے۔
