صحیح بخاری حدیث ۲۱۷۰ - سود اور ہاتھوں ہاتھ سودا

سود کی حدیث: گیہوں، جَو اور کھجور کا ہاتھوں ہاتھ سودا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۷۰

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ ، سَمِعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ " .

عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، گیہوں کو گیہوں کے بدلہ میں بیچنا سود ہے، لیکن یہ کہ سودا ہاتھوں ہاتھ ہو۔ جَو کو جَو کے بدلہ میں بیچنا سود ہے، لیکن یہ کہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔ اور کھجور کو کھجور کے بدلہ میں بیچنا سود ہے لیکن یہ کہ سودا ہاتھوں ہاتھ، نقدا نقد ہو۔

صحیح بخاری حدیث ۲۱۷۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کا ذکر فرمایا: گیہوں کو گیہوں کے بدلے بیچنا، جَو کو جَو کے بدلے بیچنا، اور کھجور کو کھجور کے بدلے بیچنا۔ ہر جگہ فرمایا کہ یہ سود ہے مگر یہ کہ سودا ہاتھوں ہاتھ ہو۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع سود، بیع صرف کی طرح ہاتھوں ہاتھ لین دین، اور ایک ہی جنس کی چیزوں کا تبادلہ ہے۔ یہاں خاص طور پر البر بالبر، الشعیر بالشعیر اور التمر بالتمر کا ذکر ہے۔ آسان الفاظ میں، جب ایک ہی جنس کی چیز کا اسی جنس سے سودا ہو تو حدیث میں نقدا نقد اور ہاتھوں ہاتھ معاملے کی تاکید آئی ہے۔ اس روایت سے زیادہ تفصیل خود متن میں نہیں، اس لیے بات انہی چیزوں تک محدود رکھی گئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گیہوں کے بدلے گیہوں کا سودا ہاتھوں ہاتھ ہو۔
  • جَو کے بدلے جَو کا سودا ہاتھوں ہاتھ ہو۔
  • کھجور کے بدلے کھجور کا سودا ہاتھوں ہاتھ ہو۔
  • حدیث میں ایسی بیع کو سود سے بچانے کے لیے فوری لین دین کا ذکر آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں