صحیح بخاری حدیث ۶۶۰۰ - کم عمری میں وفات پانے والا بچہ
بچپن میں وفات پانے والے بچے کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۶۰۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۰۰
قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ وَهْوَ صَغِيرٌ قَالَ: «اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ».
صحابہ نے عرض کیا: پھر یا رسول اللہ! اس بچے کے متعلق کیا خیال ہے جو بچپن ہی میں مر گیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ (بڑا ہو کر) کیا عمل کرتا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع اللہ کا علم اور چھوٹے بچے کا معاملہ ہے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اس بچے کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو بچپن ہی میں مر گیا ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتا۔ حدیث کے الفاظ بہت مختصر ہیں، اس لیے بات کو اسی دائرے میں رکھنا چاہیے۔ اس میں ہمیں یہ ادب ملتا ہے کہ ایسے نازک سوالات میں اپنی طرف سے قطعی بات نہ بنائی جائے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، وہ جانتا ہے کہ اگر وہ بچہ بڑا ہوتا تو کیا عمل کرتا۔ اس حدیث میں اللہ کے علم پر اعتماد کا سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بچپن میں وفات پانے والے بچے کا معاملہ اللہ کے علم میں ہے۔
- اللہ جانتا ہے کہ بندہ کیا عمل کرتا یا کرتا۔
- غیبی امور میں اپنی طرف سے فیصلہ کن بات نہیں کرنی چاہیے۔
- حدیث کے الفاظ کو اسی حد تک بیان کرنا چاہیے۔
