صحیح بخاری حدیث ۱۳۵۸ - ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے

ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے: نماز جنازہ اور فطرت کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۵۸

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : " يُصَلَّى عَلَى كُلِّ مَوْلُودٍ مُتَوَفًّى ، وَإِنْ كَانَ لِغَيَّةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ وُلِدَ عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ يَدَّعِي أَبَوَاهُ الْإِسْلَامَ أَوْ أَبُوهُ خَاصَّةً ، وَإِنْ كَانَتْ أُمُّهُ عَلَى غَيْرِ الْإِسْلَامِ إِذَا اسْتَهَلَّ صَارِخًا صُلِّيَ عَلَيْهِ وَلَا يُصَلَّى عَلَى مَنْ لَا يَسْتَهِلُّ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ سِقْطٌ ، فَإِنَّ أَبَا هُرَيْرَة رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يُحَدِّثُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ " ، ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا سورة الروم آية 30 .

شعیب روایت:

ابن شہاب ہر اس بچے کی جو وفات پا گیا ہو نماز جنازہ پڑھتے تھے۔ اگرچہ وہ حرام ہی کا بچہ کیوں نہ ہو کیونکہ اس کی پیدائش اسلام کی فطرت پر ہوئی۔ یعنی اس صورت میں جب کہ اس کے والدین مسلمان ہونے کے دعویدار ہوں۔ اگر صرف باپ مسلمان ہو اور ماں کا مذہب اسلام کے سوا کوئی اور ہو جب بھی بچہ کے رونے کی پیدائش کے وقت اگر آواز سنائی دیتی تو اس پر نماز پڑھی جاتی۔ لیکن اگر پیدائش کے وقت کوئی آواز نہ آتی تو اس کی نماز نہیں پڑھی جاتی تھی۔ بلکہ ایسے بچے کو کچا حمل گر جانے کے درجہ میں سمجھا جاتا تھا۔کیونکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جس طرح تم دیکھتے ہو کہ جانور صحیح سالم بچہ جنتا ہے۔ کیا تم نے کوئی کان کٹا ہوا بچہ بھی دیکھا ہے؟ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کو تلاوت کیا۔ «فطرة الله التي فطر الناس عليها‏‏‏» الآية‏ ”یہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۱۳۵۸ کا خلاصہ

اس روایت میں ابن شہاب رحمہ اللہ کا عمل اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث دونوں آئے ہیں۔ ابن شہاب ہر اس بچے کی نماز جنازہ پڑھتے تھے جو پیدا ہو کر آواز نکالے، کیونکہ وہ فطرت اسلام پر پیدا ہوا۔ پھر حدیث بیان ہوئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ اس کے لیے جانور کی مثال دی گئی کہ وہ صحیح سالم بچہ جنتا ہے، کیا تم اس میں پیدائشی کٹا ہوا عضو دیکھتے ہو؟ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے والی حدیث تربیت، ماحول اور اصل انسانی فطرت کو سادہ انداز میں سمجھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔
  • والدین اور ماحول بچے کی دینی سمت پر اثر ڈالتے ہیں۔
  • زندہ پیدا ہو کر آواز نکالنے والے بچے کی نماز جنازہ کا ذکر آیا ہے۔
  • جانور کی مثال سے فطرت کی بات آسان کی گئی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں