صحیح بخاری حدیث ۱۳۸۵ - ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے

ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے: تربیت اور ماحول کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۸۵

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ كَمَثَلِ الْبَهِيمَةِ تُنْتَجُ الْبَهِيمَةَ ، هَلْ تَرَى فِيهَا جَدْعَاءَ ؟ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ کی پیدائش فطرت پر ہوتی ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں بالکل اس طرح جیسے جانور کے بچے صحیح سالم ہوتے ہیں۔ کیا تم نے (پیدائشی طور پر) کوئی ان کے جسم کا حصہ کٹا ہوا دیکھا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۳۸۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع فطرت اور والدین کی تربیت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کے بچے کی مثال دی کہ وہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے، کیا تم اس میں پیدائشی طور پر کوئی کٹا ہوا حصہ دیکھتے ہو؟ اس مثال سے بات آسان ہو جاتی ہے کہ بچے کی ابتدائی حالت پاک اور فطری ہوتی ہے، پھر گھر اور ماحول اس پر اثر ڈالتے ہیں۔ اس حدیث کو فطرت کی حدیث، ہر بچہ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، اور والدین کی تربیت کی حدیث کے نام سے بہت تلاش کیا جاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، جیسا کہ حدیث میں صاف بیان ہوا ہے۔
  • والدین اور گھر کا ماحول بچے کی دینی سمت پر اثر ڈالتا ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے جانور کے صحیح سالم بچے کی مثال دے کر بات آسان بنائی۔
  • بچوں کی تربیت کو معمولی کام نہیں سمجھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں