صحیح بخاری حدیث ۱۳۸۴ - ذراری مشرکین اور اللہ کا کامل علم
ذراری مشرکین کی حدیث: اللہ بہتر جانتا ہے
صحیح بخاری : ۱۳۸۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۸۴
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ , قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , يَقُولُ : " سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ : اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کے نابالغ بچوں کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے جو بھی وہ عمل کرنے والے ہوئے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۸۴ کا خلاصہ
یہ حدیث بھی اسی موضوع کو بیان کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے عمل اور حال کو سب سے زیادہ جانتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کے نابالغ بچوں کے بارے میں سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے جو بھی وہ عمل کرنے والے ہوئے۔ اس جواب میں ہمیں احتیاط، ادب اور اللہ کے علم پر بھروسہ سکھایا گیا ہے۔ حدیث میں کوئی لمبی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے ہمیں بھی اس کے متن سے آگے بڑھ کر قطعی دعوے نہیں کرنے چاہییں۔ یہ بات سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ اللہ کا علم ہمارے اندازوں سے بلند ہے۔ اسی لیے یہ حدیث ذراری مشرکین، بچوں کا انجام، اور اللہ کے علم کی حدیث کے طور پر اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ تعالیٰ ہر انسان کے بارے میں سب سے بہتر جانتا ہے۔
- ایسے سوالات میں نبی صلى الله عليه وسلم کے مختصر جواب کو قبول کرنا چاہیے۔
- حدیث ہمیں اندازوں کے بجائے اللہ کے علم پر اعتماد سکھاتی ہے۔
- بچوں کے معاملے میں سخت اور بے بنیاد دعووں سے بچنا چاہیے۔
