صحیح بخاری حدیث ۱۳۸۳ - مشرکوں کے بچوں کے بارے میں اللہ کا علم
مشرکوں کے نابالغ بچوں کی حدیث: اللہ کے علم پر ایمان
صحیح بخاری : ۱۳۸۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۸۳
حَدَّثَنِي حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ , قَالَ : " سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ : اللَّهُ إِذْ خَلَقَهُمْ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کے نابالغ بچوں کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب انہیں پیدا کیا تھا اسی وقت وہ خوب جانتا تھا کہ یہ کیا عمل کریں گے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۸۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع اللہ تعالیٰ کا کامل علم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کے نابالغ بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب انہیں پیدا کیا تھا اسی وقت وہ خوب جانتا تھا کہ یہ کیا عمل کریں گے۔ اس حدیث میں ہمیں یہ سکھایا گیا ہے کہ بعض سوالات میں آخری فیصلہ اللہ کے علم کے سپرد ہے۔ یہاں نہ کوئی لمبی بحث کی گئی ہے اور نہ کسی خاص فرد کے بارے میں کوئی حکم بتایا گیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ ہر انسان کے حال، انجام اور ممکنہ عمل کو جانتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ حدیث اللہ کے علم، تقدیر، اور نابالغ بچوں کے بارے میں حدیث کے عنوان سے تلاش کی جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ تعالیٰ ہر مخلوق کے بارے میں مکمل علم رکھتا ہے۔
- جن امور کا واضح حکم ہمیں نہ بتایا جائے، انہیں اللہ کے علم کے سپرد کرنا چاہیے۔
- حدیث میں مشرکوں کے نابالغ بچوں کے بارے میں مختصر جواب دیا گیا ہے۔
- دین میں ہر بات پر بے جا بحث کے بجائے نبی صلى الله عليه وسلم کے جواب پر اکتفا کرنا ادب ہے۔
