صحیح بخاری حدیث ۱۳۸۲ - ابراہیم رضی اللہ عنہ کے لیے جنت میں دودھ پلانے والی
ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات: جنت میں دودھ پلانے والی کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۳۸۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۸۲
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّه سَمِعَ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " لَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ " .
براء بن عازب روایت:
جب ابراہیم (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے) کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہشت میں ان کے لیے ایک دودھ پلانے والی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۸۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کا ذکر ہے۔ جب ان کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں ان کے لیے ایک دودھ پلانے والی ہے۔ اس سے حدیث کا اصل پیغام اللہ کی رحمت اور بچے کے لیے جنت کی نعمت ہے۔ یہ بات خاص طور پر ابراہیم رضی اللہ عنہ کے بارے میں آئی ہے، اس لیے اسے عام انداز میں بڑھا کر کوئی نیا حکم نہیں بنانا چاہیے۔ یہ حدیث غم کے موقع پر امید دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ نرمی فرماتا ہے۔ اسی لیے لوگ اسے ابراہیم رضی اللہ عنہ کی حدیث، جنت میں دودھ پلانے والی حدیث، اور بچے کی وفات کی حدیث کے طور پر تلاش کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں ابراہیم رضی اللہ عنہ کے لیے جنت میں خاص دیکھ بھال کا ذکر ہے۔
- غم کے وقت بھی نبی صلى الله عليه وسلم نے اللہ کی رحمت کی خبر دی۔
- حدیث کے الفاظ خاص واقعے سے متعلق ہیں، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھا جائے۔
- اللہ کی رحمت کا ذکر غم زدہ دل کے لیے تسلی بن سکتا ہے۔
