صحیح بخاری حدیث ۱۳۸۱ - نابالغ بچوں کی وفات پر جنت کی امید

نابالغ بچوں کی وفات کی حدیث: صبر اور اللہ کی رحمت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۸۱

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنَ النَّاسِ مُسْلِمٌ يَمُوتُ , لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ ، إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ " .

انس بن مالک روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس مسلمان کے بھی تین نابالغ بچے مر جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحمت سے جو ان بچوں پر کرے گا ‘ ان کو بہشت میں لے جائے گا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۳۸۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع بچوں کی وفات پر صبر اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ جس مسلمان کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں، اللہ تعالیٰ ان بچوں پر اپنے فضل و رحمت کی وجہ سے اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ یہاں بات خاص طور پر تین ایسے بچوں کی ہے جو بلوغت تک نہیں پہنچے تھے۔ یہ حدیث غم زدہ والدین کے لیے تسلی کا بڑا سبب بنتی ہے، مگر ساتھ ہی ہمیں الفاظ کی حد میں رہنا چاہیے۔ حدیث میں اللہ کے فضل، بچوں پر رحمت، اور والدین کے لیے جنت کی امید کا ذکر ہے۔ اس لیے اسے بچوں کی وفات کی حدیث، صبر کی حدیث، اور اللہ کی رحمت کی حدیث کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نابالغ بچوں کی وفات والدین کے لیے بہت بڑا غم ہے، مگر حدیث میں اللہ کی رحمت کی امید دی گئی ہے۔
  • حدیث میں تین نابالغ بچوں کے فوت ہونے کی خاص صورت بیان ہوئی ہے۔
  • جنت کا ذکر اللہ کے فضل اور رحمت کے ساتھ آیا ہے، اس لیے بندہ اللہ سے اچھی امید رکھے۔
  • مصیبت میں صبر اور اللہ کی طرف رجوع دل کو سنبھالنے کا سبب بنتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں