صحیح بخاری حدیث ۱۲۴۸ - اولاد کا غم

بچوں کی وفات پر صبر اور اللہ کی رحمت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۴۸

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنَ النَّاسِ مِنْ مُسْلِمٍ يُتَوَفَّى لَهُ ثَلَاثٌ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ " .

انس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی مسلمان کے اگر تین بچے مر جائیں جو بلوغت کو نہ پہنچے ہوں تو اللہ تعالیٰ اس رحمت کے نتیجے میں جو ان بچوں سے وہ رکھتا ہے مسلمان (بچے کے باپ اور ماں) کو بھی جنت میں داخل کرے گا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۲۴۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی مضمون اولاد کے غم پر اللہ کی رحمت ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جس مسلمان کے تین بچے مر جائیں جو ابھی بلوغت کو نہ پہنچے ہوں، تو اللہ تعالیٰ ان بچوں پر اپنی رحمت کے سبب اس مسلمان کو جنت میں داخل کرے گا۔ حدیث کے الفاظ میں خاص طور پر نابالغ بچوں کا ذکر ہے، اس لیے بیان کو اسی حد تک رکھنا چاہیے۔ یہ بات غم زدہ والدین کے لیے بڑی تسلی ہے کہ ان کا دکھ اللہ کے ہاں بے خبر نہیں رہتا۔ مسلمان کو ایسے موقع پر صبر، دعا اور اللہ کی رحمت سے امید رکھنی چاہیے، کیونکہ حدیث نے رحمت ہی کو اصل سبب بتایا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث میں تین نابالغ بچوں کی وفات کا ذکر ہے۔
  • والدین کے غم کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے دیکھتا ہے۔
  • ایسے موقع پر صبر اور اللہ کی رحمت سے امید مناسب ہے۔
  • حدیث کے بیان کو اسی شرط کے ساتھ سمجھنا چاہیے جو الفاظ میں آئی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں