صحیح بخاری حدیث ۱۰۲ - نابالغ بچوں کی وفات اور صبر
نابالغ بچوں کی وفات پر صبر کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۰۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۰۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا ، وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : ثَلَاثَةً لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ .
ابوہریرہ روایت:
´مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ان سے غندر نے، ان سے شعبہ نے عبدالرحمٰن بن الاصبہانی کے واسطے سے بیان کیا، وہ ذکوان سے، وہ ابوسعید سے اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں۔ اور (دوسری سند میں) عبدالرحمٰن الاصبہانی کہتے ہیں کہ میں نے ابوحازم سے سنا، وہ ابوہریرہ سے نقل کرتے ہیں کہ` انہوں نے فرمایا کہ ایسے تین (بچے) جو ابھی بلوغت کو نہ پہنچے ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۰۲ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت کی مزید وضاحت کرتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ وہ تین بچے جو ابھی بلوغت کو نہ پہنچے ہوں، اگر ماں باپ سے پہلے فوت ہو جائیں تو حدیث کے الفاظ میں وہ دوزخ سے پناہ کا سبب بنتے ہیں۔ یہاں اصل بات اولاد کے صدمے پر صبر اور اللہ کی طرف امید ہے۔ حدیث میں خاص طور پر یہ قید بھی آئی کہ وہ بچے ابھی گناہ کی عمر کو نہ پہنچے ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غم زدہ دلوں کو تسلی دی اور انہیں اللہ کی رحمت کی امید دلائی۔ یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ حدیث کے الفاظ کو صحیح طرح سمجھنے کے لیے دوسری سندوں میں آنے والی وضاحت کو بھی دیکھا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اولاد کی وفات بہت بڑا صدمہ ہے، مگر حدیث صبر کرنے والوں کو امید دیتی ہے۔
- نابالغ بچوں کے بارے میں روایت میں خاص وضاحت آئی ہے۔
- حدیث کو سمجھنے میں مختلف سندوں کی وضاحت مدد دیتی ہے۔
- مصیبت کے وقت اللہ کی رحمت سے امید رکھنی چاہیے۔
