صحیح بخاری حدیث ۱۰۳ - حساب آسان اور حساب کی پوچھ گچھ
حساب آسان اور سخت حساب کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۰۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۰۳
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، " أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَا تَسْمَعُ شَيْئًا لَا تَعْرِفُهُ إِلَّا رَاجَعَتْ فِيهِ حَتَّى تَعْرِفَهُ ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ أَوَلَيْسَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى : فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا سورة الانشقاق آية 8 ، قَالَتْ ، فَقَالَ : إِنَّمَا ذَلِكِ الْعَرْضُ ، وَلَكِنْ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَهْلِكْ " .
ابن ابی ملیکہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا جب کوئی ایسی باتیں سنتیں جس کو سمجھ نہ پاتیں تو دوبارہ اس کو معلوم کرتیں تاکہ سمجھ لیں۔ چنانچہ (ایک مرتبہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس سے حساب لیا گیا اسے عذاب کیا جائے گا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ (یہ سن کر) میں نے کہا کہ کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ عنقریب اس سے آسان حساب لیا جائے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ صرف (اللہ کے دربار میں) پیشی کا ذکر ہے۔ لیکن جس کے حساب میں جانچ پڑتال کی گئی (سمجھو) وہ غارت ہو گیا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں دو اہم باتیں ہیں: علم حاصل کرنے کا طریقہ اور آخرت کے حساب کا معاملہ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا جب کوئی بات سنتیں اور پوری طرح سمجھ نہ پاتیں تو دوبارہ پوچھتیں، تاکہ بات واضح ہو جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس سے حساب لیا گیا اسے عذاب کیا جائے گا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے قرآن کی آیت کا حوالہ دے کر پوچھا کہ آسان حساب کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ وہ صرف پیشی ہے، لیکن جس کے حساب میں جانچ پڑتال کی گئی وہ ہلاک ہو گیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی بات سمجھنے کے لیے سوال کرنا اچھا ہے، اور آخرت کا حساب معمولی بات نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی بات سمجھ نہ آئے تو ادب کے ساتھ سوال کرنا چاہیے۔
- عائشہ رضی اللہ عنہا علم سمجھنے کے لیے دوبارہ پوچھتی تھیں۔
- آسان حساب اور سخت پوچھ گچھ میں فرق ہے۔
- آخرت کے حساب سے ڈرنا اور تیاری کرنا چاہیے۔
