صحیح بخاری حدیث ۱۰۴ - مکہ کی حرمت اور خون ریزی کی ممانعت
مکہ کی حرمت اور خون ریزی کی ممانعت
صحیح بخاری : ۱۰۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۰۴
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ : ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ ، سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ ، وَوَعَاهُ قَلْبِي ، وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ ، حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ ، فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا ، وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً ، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَقُولُوا : إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ، ثُمَّ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ وَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ " ، فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ : مَا قَالَ عَمْرٌو ؟ قَالَ : أَنَا أَعْلَمُ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ ، لَا يُعِيذُ عَاصِيًا وَلَا فَارًّا بِدَمٍ وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ .
ابوشریح روایت:
انہوں نے عمرو بن سعید (والی مدینہ) سے جب وہ مکہ میں (ابن زبیر سے لڑنے کے لیے) فوجیں بھیج رہے تھے کہا کہ اے امیر! مجھے آپ اجازت دیں تو میں وہ حدیث آپ سے بیان کر دوں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن ارشاد فرمائی تھی، اس (حدیث) کو میرے دونوں کانوں نے سنا اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ہے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ حدیث فرما رہے تھے تو میری آنکھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہی تھیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پہلے) اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا کہ مکہ کو اللہ نے حرام کیا ہے، آدمیوں نے حرام نہیں کیا۔ تو (سن لو) کہ کسی شخص کے لیے جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو جائز نہیں ہے کہ مکہ میں خون ریزی کرے، یا اس کا کوئی پیڑ کاٹے، پھر اگر کوئی اللہ کے رسول (کے لڑنے) کی وجہ سے اس کا جواز نکالے تو اس سے کہہ دو اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اجازت دی تھی، تمہارے لیے نہیں دی اور مجھے بھی دن کے کچھ لمحوں کے لیے اجازت ملی تھی۔ آج اس کی حرمت لوٹ آئی، جیسی کل تھی۔ اور حاضر غائب کو (یہ بات) پہنچا دے۔یہ حدیث سننے کے بعد راوی حدیث) ابوشریح سے پوچھا گیا کہ (آپ کی یہ بات سن کر) عمرو نے کیا جواب دیا؟ کہا یوں کہ اے (ابوشریح!) حدیث کو میں تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ مگر حرم (مکہ) کسی خطاکار کو یا خون کر کے اور فتنہ پھیلا کر بھاگ آنے والے کو پناہ نہیں دیتا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوشریح رضی اللہ عنہ نے وہ بات بیان کی جو انہوں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتح مکہ کے اگلے دن سنی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مکہ کو اللہ نے حرام کیا ہے، لوگوں نے نہیں۔ جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اس کے لیے مکہ میں خون بہانا یا درخت کاٹنا جائز نہیں۔ اگر کوئی فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اجازت کو دلیل بنائے تو اسے بتایا جائے کہ وہ اجازت خاص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھی، عام لوگوں کے لیے نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حاضر شخص غائب کو یہ بات پہنچا دے۔ اس حدیث میں مکہ کی حرمت، دینی بات کی امانت اور حق بات پہنچانے کا سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مکہ کی حرمت اللہ کی طرف سے ہے، لوگوں کی بنائی ہوئی نہیں۔
- مکہ میں خون ریزی اور درخت کاٹنے سے منع کیا گیا ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی خاص اجازت کو عام اجازت نہیں بنایا جا سکتا۔
- دینی حکم سننے والا اسے دوسروں تک پہنچائے۔
