صحیح بخاری حدیث ۱۰۵ - جان مال اور آبرو کی حرمت
جان مال اور آبرو کی حرمت والی حدیث
صحیح بخاری : ۱۰۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۰۵
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، ذُكِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ ، قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَحْسِبُهُ قَالَ : وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، أَلَا لِيُبَلِّغ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ " ، وَكَانَ مُحَمَّدٌ يَقُولُ : صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ ذَلِكَ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ مَرَّتَيْنِ .
ابن ابی بکرہ روایت:
ایک مرتبہ) ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یوں) فرمایا، تمہارے خون اور تمہارے مال، محمد کہتے ہیں کہ میرے خیال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «وأعراضكم» کا لفظ بھی فرمایا۔ (یعنی) اور تمہاری آبروئیں تم پر حرام ہیں۔ جس طرح تمہارے آج کے دن کی حرمت تمہارے اس مہینے میں۔ سن لو! یہ خبر حاضر غائب کو پہنچا دے۔ اور محمد (راوی حدیث) کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ (پھر) دوبارہ فرمایا کہ کیا میں نے (اللہ کا یہ حکم) تمہیں نہیں پہنچا دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے باہمی حقوق کو بہت صاف الفاظ میں بیان فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے خون اور تمہارے مال، اور راوی کے خیال کے مطابق تمہاری آبروئیں بھی، تم پر حرام ہیں۔ اس حرمت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن اور اس مہینے کی حرمت سے تشبیہ دی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کی جان کو نقصان پہنچانا، مال پر زیادتی کرنا اور عزت کو خراب کرنا بہت سنگین بات ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ جو حاضر ہے وہ غائب کو یہ بات پہنچا دے۔ اس حدیث میں حقوق العباد، امانت، خبر پہنچانے اور معاشرتی امن کا واضح پیغام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان کی جان، مال اور عزت کی حرمت بہت اہم ہے۔
- کسی کی آبرو کو نقصان پہنچانا بھی بڑی زیادتی ہے۔
- دینی حکم سننے والے کو چاہیے کہ اسے دوسروں تک پہنچائے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات پہنچانے کی تاکید فرمائی۔
