صحیح بخاری حدیث ۱۰۶ - رسول اللہ پر جھوٹ باندھنے کی وعید

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۰۶

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْصُورٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ رِبْعِيَّ بْنَ حِرَاشٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَلِيًّا ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ ، فَإِنَّهُ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فَلْيَلِجْ النَّارَ " .

ربعی بن حراش روایت:

میں نے علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ پر جھوٹ مت بولو۔ کیونکہ جو مجھ پر جھوٹ باندھے وہ دوزخ میں داخل ہو۔

صحیح بخاری حدیث ۱۰۶ کا خلاصہ

یہ حدیث بہت مختصر ہے مگر اس کا پیغام بہت سخت اور واضح ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ پر جھوٹ مت بولو، کیونکہ جو مجھ پر جھوٹ باندھے وہ دوزخ میں داخل ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث بیان کرنا معمولی کام نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی بات منسوب کرتے وقت بہت احتیاط چاہیے۔ اگر کوئی شخص ایسی بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے کہے جو آپ نے نہیں فرمائی، تو یہ بہت خطرناک عمل ہے۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ دینی بات پھیلانے سے پہلے اس کی نسبت کو دیکھنا چاہیے۔ خاص طور پر آج کے دور میں حدیث شیئر کرنے سے پہلے تحقیق کرنا ضروری ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر جھوٹ بولنے کی وعید بہت سخت ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا سخت منع ہے۔
  • حدیث بیان کرنے سے پہلے احتیاط اور تحقیق ضروری ہے۔
  • دینی بات پھیلانے میں زبان اور قلم دونوں کی ذمہ داری ہے۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے بات کہنا امانت کا معاملہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں