صحیح بخاری حدیث ۱۰۷ - حدیث بیان کرنے میں احتیاط
حدیث بیان کرنے میں احتیاط کی اہم حدیث
صحیح بخاری : ۱۰۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۰۷
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ لِلزُّبَيْرِ : إِنِّي لَا أَسْمَعُكَ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا يُحَدِّثُ فُلَانٌ وَفُلَانٌ ، قَالَ : أَمَا إِنِّي لَمْ أُفَارِقْهُ وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
عبداللہ بن زبیر روایت:
میں نے کبھی آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث نہیں سنیں۔ جیسا کہ فلاں، فلاں بیان کرتے ہیں، کہا میں کبھی آپ سے الگ تھلگ نہیں رہا لیکن میں نے آپ کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مجھ پر جھوٹ باندھے گا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۰۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اپنے والد زبیر رضی اللہ عنہ سے پوچھتے ہیں کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثیں کم کیوں بیان کرتے ہیں؟ زبیر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا نہیں رہے، یعنی انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی، مگر انہوں نے آپ کو یہ فرماتے سنا کہ جو شخص مجھ پر جھوٹ باندھے، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔ اس وجہ سے وہ حدیث بیان کرنے میں بہت محتاط تھے۔ اس حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ حدیث بیان کرنا صرف یادداشت کا کام نہیں، بلکہ امانت کا کام ہے۔ آدمی کو وہی بات آگے کہنی چاہیے جس کے بارے میں اسے اطمینان ہو کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی بات ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام حدیث بیان کرنے میں بہت احتیاط کرتے تھے۔
- کم بیان کرنا کبھی کبھی احتیاط کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کی وعید صحابہ کے دلوں میں موجود تھی۔
- حدیث کی نسبت میں یقین اور ذمہ داری ضروری ہے۔
