صحیح بخاری حدیث ۱۰۸ - جان بوجھ کر جھوٹی حدیث بیان کرنا
جان بوجھ کر جھوٹی حدیث بیان کرنے کی وعید
صحیح بخاری : ۱۰۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۰۸
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ أَنَسٌ : إِنَّهُ لَيَمْنَعُنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ حَدِيثًا كَثِيرًا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَعَمَّدَ عَلَيَّ كَذِبًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
انس روایت:
مجھے بہت سی حدیثیں بیان کرنے سے یہ بات روکتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۰۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں انس رضی اللہ عنہ اپنا حال بیان کرتے ہیں کہ انہیں بہت سی حدیثیں بیان کرنے سے ایک بات روک دیتی ہے۔ وہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔ یہاں خاص طور پر جان بوجھ کر جھوٹ بولنے کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث بیان کرتے وقت نیت، احتیاط اور صحیح نسبت بہت ضروری ہے۔ انس رضی اللہ عنہ جیسے صحابی، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، وہ بھی حدیث بیان کرنے میں ڈرتے تھے۔ یہ ہمارے لیے بڑا سبق ہے کہ سنی سنائی بات کو حدیث کہہ کر آگے نہ بڑھائیں، جب تک اس کی نسبت کا اطمینان نہ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جان بوجھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنا سخت گناہ ہے۔
- صحابہ حدیث بیان کرتے ہوئے اللہ سے ڈرتے تھے۔
- سنی سنائی بات کو فوراً حدیث کہہ کر آگے نہیں پھیلانا چاہیے۔
- دینی بات میں احتیاط ایمان داری کا حصہ ہے۔
