صحیح بخاری حدیث ۱۷۴۱ - جان و مال کی حرمت کا پیغام
جان و مال کی حرمت کی حدیث: حج کے خطبے کا بڑا پیغام
صحیح بخاری : ۱۷۴۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۴۱
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَوَرَجُلٌ أَفْضَلُ فِي نَفْسِي مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ ، قَالَ : أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ , قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ ، قَالَ : أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ ؟ , قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : أَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ ، فَقَالَ : أَلَيْسَ ذُو الْحَجَّةِ ، قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : أَيُّ بَلَدٍ هَذَا ، قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ ، قَالَ : أَلَيْسَتْ بِالْبَلْدَةِ الْحَرَامِ ؟ , قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : اللَّهُمَّ اشْهَدْ ، فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ ، فَلَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " .
ابوبکر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دسویں تاریخ کو منیٰ میں خطبہ سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا لوگو! معلوم ہے آج یہ کون سا دن ہے؟ ہم نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں۔ہم بولے ہاں ضرور ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ مہینہ کون سا ہے؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے لیے۔ آپ اس مرتبہ بھی خاموش ہو گئے اور ہمیں خیال ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینہ کا نام کوئی اور نام رکھیں گے، لیکن آپ نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے؟ ہم بولے کیوں نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ شہر کون سا ہے؟ ہم نے عرض کی اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح خاموش ہو گئے کہ ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا شہر نہیں ہے؟ہم نے عرض کی کیوں نہیں ضرور ہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بس تمہارا خون اور تمہارے مال تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس مہینہ اور اس شہر میں ہے، تاآنکہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ کہو کیا میں نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! تو گواہ رہنا اور ہاں! یہاں موجود غائب کو پہنچا دیں کیونکہ بہت سے لوگ جن تک یہ پیغام پہنچے گا سننے والوں سے زیادہ (پیغام کو) یاد رکھنے والے ثابت ہوں گے اور میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی (ناحق) گردنیں مارنے لگو۔
صحیح بخاری حدیث ۱۷۴۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع جان و مال کی حرمت ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے منیٰ میں قربانی کے دن لوگوں کو خطبہ دیا اور پہلے دن، مہینے اور شہر کی حرمت یاد دلائی۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ مسلمانوں کا خون اور مال بھی ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے جیسے اس دن، اس مہینے اور اس شہر کی حرمت ہے۔ یہ بات بہت صاف ہے کہ اسلام میں ناحق خون بہانا، مال پر ظلم کرنا اور لوگوں کو نقصان دینا معمولی بات نہیں۔ اس حدیث میں پیغام پہنچانے کی ذمہ داری بھی آئی ہے۔ جو حاضر تھے، انہیں حکم دیا گیا کہ غائب لوگوں تک یہ بات پہنچائیں۔ آخر میں آپ صلى الله عليه وسلم نے ایک دوسرے کی گردنیں مارنے سے سختی سے روکا، یعنی امت میں ناحق لڑائی اور قتل سے بچنے کی تاکید فرمائی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان کے خون اور مال کی حرمت بہت بڑی ہے۔
- دینی بات سن کر اسے درست طریقے سے آگے پہنچانا بھی ذمہ داری ہے۔
- ناحق لڑائی اور قتل سے بچنا اس حدیث کا واضح پیغام ہے۔
- حج کے مقدس موقع پر بھی لوگوں کے حقوق کو خاص طور پر یاد دلایا گیا۔
