صحیح بخاری حدیث ۱۷۴۲ - خون، مال اور عزت کی حرمت
خون، مال اور عزت کی حرمت: حج اکبر کے دن کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۷۴۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۴۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى : " أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ , قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، فَقَالَ : فَإِنَّ هَذَا يَوْمٌ حَرَامٌ ، أَفَتَدْرُونَ أَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : بَلَدٌ حَرَامٌ ، أَفَتَدْرُونَ أَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ , قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : شَهْرٌ حَرَامٌ ، قَالَ : فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا " , وَقَالَ هِشَامُ بْنُ الْغَازِ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، وَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَيْنَ الْجَمَرَاتِ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي حَجَّ بِهَذَا ، وَقَالَ : هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ فَطَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : اللَّهُمَّ اشْهَدْ وَوَدَّعَ النَّاسَ ، فَقَالُوا : هَذِهِ حَجَّةُ الْوَدَاعِ .
ابن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں فرمایا کہ تم کو معلوم ہے! آج کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا دن ہے اور یہ بھی تم کو معلوم ہے کہ یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا شہر ہے اور تم کو یہ بھی معلوم ہے کہ یہ کون سا مہینہ ہے، لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا مہینہ ہے پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا خون! تمہارا مال اور عزت ایک دوسرے پر (ناحق) اس طرح حرام کر دی ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس مہینہ اور اس شہر میں ہے۔ہشام بن غاز نے کہا کہ مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں دسویں تاریخ کو جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے تھے اور فرمایا تھا کہ دیکھو! یہ ( «يوم النحر») حج اکبر کا دن ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمانے لگے کہ اے اللہ! گواہ رہنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر چونکہ لوگوں کو رخصت کیا تھا۔ (آپ سمجھ گئے کہ وفات کا زمانہ آن پہنچا) جب سے لوگ اس حج کو حجۃ الوداع کہنے لگے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۷۴۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع خون، مال اور عزت کی حرمت ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے منیٰ میں لوگوں سے دن، شہر اور مہینے کے بارے میں پوچھا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ یہ حرمت والا دن، حرمت والا شہر اور حرمت والا مہینہ ہے۔ اسی کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے بہت صاف لفظوں میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا خون، تمہارا مال اور تمہاری عزت ایک دوسرے پر ناحق حرام کر دی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں، بلکہ لوگوں کے حقوق کی حفاظت بھی دین کا حصہ ہے۔ حدیث میں حج اکبر کا دن بھی آیا ہے، اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اللہ کو گواہ بنایا کہ آپ نے پیغام پہنچا دیا۔ یہ انداز بتاتا ہے کہ یہ بات امت کے لیے بہت سنجیدہ نصیحت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی کی جان، مال یا عزت کو ناحق نقصان پہنچانا جائز نہیں۔
- حج کے مقدس مقامات پر بھی انسانی حقوق کی تاکید کی گئی۔
- دین کا پیغام واضح انداز میں پہنچانا نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی سنت ہے۔
- عزت کی حفاظت بھی مال اور جان کی طرح اہم حق ہے۔
