صحیح بخاری حدیث ۶۵۹۹ - ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے
ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے: فطرت کی مشہور حدیث
صحیح بخاری : ۶۵۹۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۹۹
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ ، وَيُنَصِّرَانِهِ كَمَا تُنْتِجُونَ الْبَهِيمَةَ ، هَلْ تَجِدُونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ ؟ حَتَّى تَكُونُوا أَنْتُمْ تَجْدَعُونَهَا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی بچہ ایسا نہیں ہے جو فطرت پر نہ پیدا ہوتا ہو۔ لیکن اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں جیسا کہ تمہارے جانوروں کے بچے پیدا ہوتے ہیں۔ کیا ان میں کوئی کان کٹا پیدا ہوتا ہے؟ وہ تو تم ہی اس کا کان کاٹ دیتے ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۶۵۹۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع فطرت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی بچہ ایسا نہیں جو فطرت پر پیدا نہ ہوتا ہو۔ پھر اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں۔ آپ نے مثال دی کہ جانور کا بچہ مکمل پیدا ہوتا ہے، کیا تم اس میں کان کٹا ہوا پاتے ہو؟ پھر تم ہی اس کا کان کاٹتے ہو۔ اس حدیث میں فطرت کی حدیث بہت سادہ انداز میں سمجھائی گئی ہے۔ بچہ اپنی اصل حالت پر پیدا ہوتا ہے، پھر گھر، تربیت اور ماحول اس پر اثر ڈالتے ہیں۔ حدیث میں والدین کے اثر کا ذکر ہے، اس لیے اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ بچے کی دینی تربیت کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔
- والدین بچے کی دینی سمت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
- تربیت اور ماحول بچے کی شخصیت پر اثر ڈالتے ہیں۔
- حدیث میں جانور کے بچے کی مثال سے بات آسان کی گئی ہے۔
